لاہور سے”غریب“خاتون صحافی اغوا: صحافتی تنظیموں کی پراسرار خاموشی

اسلام آباد(نیوزلائن)لاہور سے ایک خاتون صحافی کو پراسرا ر انداز میں غائب کر دیا گیا ہے اور کوئی صحافتی تنظیم اس پر آواز اٹھا رہی اور نہ ہی پی ایف یو جے سمیت کسی صحافتی تنظیم نے اس خاتون کی بازیابی کیلئے کوئی اقدام اٹھایا ہے۔نیوزلائن کے مطابق کسی خاتون صحافی کا اغواء ہونے کا پاکستان میں یہ پہلا واقعہ ہے۔پی ایف یو جے ”لاہور“ کے صدر رانا عظیم نے اس پر آواز اٹھانا مناسب سمجھا اور نہ پی ایف یو جے ”اسلام آباد“ کے صدر افضل بٹ نے ایک ”غریب“ خاتون صحافی کی بازیابی کیلئے کچھ کرنا مناشب سمجھا۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ کیونکہ ایک غریب میڈیا ورکر کا معاملہ ہے اس لئے پی ایف یو جے نے کچھ کرنا مناب نہیں سمجھا اگر کسی اخباری مالک یا ٹی وی چینل کی مینجمنٹ کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو رانا عظیم گروپ اور افضل بٹ گروپ ”دونوں پی ایف یو جے“ خم ٹھونک کر میدان میں کود پڑتیں۔نیوزلائن کے مطابق یہ اغواء بھی آج کل نہیں ہوا بلکہ لاہور کے اخبار نئی خبر اورمیٹرو نیوز سے وابستہ خاتون صحافی زینت شہزادی کو پندرہ اگست سال 2015کوشہر کی مصروف ترین سڑک پر راہ چلتے اغواء کیا گیا تھااور بیس ماہ گزرنے کے باوجود کوئی صحافتی تنظیم خاتون صحافی کی بازیابی کیلئے میدان میں نہیں آئی اور تو اور اس کے اداروں ”نئی خبر“ اور”میٹرو نیوز“نے بھی اپنی ورکر کے غائب ہونے پر آواز اٹھانا اپنی شان کیخلاف سمجھا۔

Related posts