جی سی یونیورسٹی فیصل آباد: استادحیوانیت پر اتر آیا‘ طالبہ پر جنسی تشدد

فیصل آباد(ندیم جاوید سے)درس و تدریس کو پیغمبروں کی میراث اور استاد کو اعلیٰ ترین درجہ پر فائز قرار دیا جاتا ہے مگر بھیڑ کی کھال میں اکثر بھیڑیئے بھی نکل آتے ہیں۔جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایک پروفیسر نے حیوانیت کو بھی شرما دیا۔ ریسرچ کیلئے یونیورسٹی آنے والی طالبہ کو بہانے بہانے تنہائی میں بلانے لگا اور اپنی جنسی تسکین پوری کرنے کیلئے استعمال کرنے لگا۔کیمسٹری میں ایم فل کرنے کیلئے کوشاں نوجوان طالبہ نے عاشقی کا سبق پڑھانے والے اسسٹنٹ پروفیسر کے جھانسے میں آنے کی بجائے جامعہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی سے مدد طلب کرلی۔ انکوائری میں اسسٹنٹ پروفیسر پر طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہوگئے۔ نیوزلائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ کیمسٹری کی ایم فل کے فورتھ سمسٹر کی طالبہ ثمرین گل کو اسی کے ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ناصر رسول نے جنسی طمانیت کیلئے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل بھی شروع کر دیا۔تھیسس کی تیاری کے دوران ناصر نے ریسرچ سکالر طالبہ کو جنسی تسکین کیلئے استعمال کرنے پر آمادہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اسے ریسرچ خود کرکے دینے اور تھیسس کے اعلیٰ نمبرز لگوا کر دینے سمیت ہر ممکن آفر کی جس کیلئے ڈاکٹر ناصر کی ثمرین سے ڈیمانڈ صرف یہ تھی کہ اس کی جنسی تسکین کا سامان کرتی رہے۔ریسرچ کے دوران لیب میں بہانے بہانے سے تنہائی فراہم کرتے اور پروفیسر اپنی طالبہ کیساتھ دست درازی کی کوشش کرتا رہتا۔ طالبہ کو آمادہ کرنے کیلئے ایس ایم ایس اور وٹس ایپ کا سہارا بھی لیتا رہا۔انسانیت کے درجے سے بھی گر جانے والے ”استاد محترم“ کے تمام حربے ناکام ہوئے تو دھمکیوں اور بلیک میلنگ کا سہارا لے لیا مگر ان ہتھکنڈوں کو بھی طالبہ نے ناکام بنادیا اور مدد کیلئے وائس چانسلر جی سی یو ایف ڈاکٹر محمد علی کو عرضداشت گزار دی۔ چٹھی یونیورسٹی کی ہائی کمانڈ تک پہنچنے کی دیر تھی کہ”صاحب بہادر“ڈاکٹر ناصر رسول کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور معاملے کو ”اندر کھاتے“ نمٹانے کیلئے طالبہ اور اس کے عزیزو اقارب کی منت سماجت پر اتر آیا۔طالبہ کی درخواست پر وائس چانسلر نے ڈاکٹر حضور صابر کی سربراہی میں چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی۔ انکوائری میں طالبہ کے الزامات سچ ثابت ہوئے تو انکوائری کمیٹی نے وائس چانسلر کو سفارش کردی کہ ڈاکٹر ناصر رسول سے پیغمبرانہ ذمہ داریاں چھین لی جائیں۔ وائس چانسلر نے انکوائری کمیٹی کی سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے ڈاکٹر ناصر رسول کو معطل کر دیا ہے اور ان کے مزید کارروائی کیلئے کیس سنڈیکیٹ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

Related posts