حکومتی ترجیحات سوالیہ نشان:سوا دو کروڑ پاکستانی بچے سکول جاتے ہی نہیں


اسلام آباد(حامد یٰسین)پاکستان میں بچوں کو سکول بھیجنے اور شرح خواندگی بڑھانے کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں عالمی فنڈنگ اور فنڈز کا بے دریغ استعمال کرنے کے باوجود حکومت بچوں کے داخلے یقینی بنانے میں ناکام ہے اور ابھی بھی دو کروڑ چھبیس لاکھ چالیس ہزار بچے سکول نہیں جاتے۔ یہ اعدادوشمار کسی عالمی ادارے یا پرائیویٹ ادارے کے نہیں ہیں بلکہ خود مسلم لیگ ن کی حکومت کا اعتراف ہے۔ وفاقی حکومت کے اعدادو شمار کے مطابق سکول نہ جانے والے پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے مگر ابھی بھی سوا دو کروڑ سے زائد بچے سکول جاتے ہی نہیں ہیں۔ تعلیم کے میدان میں پاکستان کا یہ حال ہے مگر حکومتی ترجیحات میں تعلیم سرفہرست آنے اور تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا نام بھی نہیں لیا جا رہا۔عالمی اداروں کی طرف سے بھی حکومت کو بے دریغ فنڈز فراہم کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں شرح خواندگی بڑھانے اور بچوں کا سکول داخلہ یقینی بنانے کیلئے اقوام متحدہ‘ یو ایس ایڈ‘ یورپی یونین سمیت متعدد عالمی ادارے پاکستان کی امداد کر رہا ہے مگر اربوں روپے کے فنڈزموجود ہونے اور ان کا بے دریغ استعمال کرنے کے باوجود حکومت سو فیصد بچوں کا سکولوں میں داخلہ یقینی بنانے میں ناکام ہے

Related posts