اوپن یونیورسٹی کا اطلاعات و ترسیلات کا نظام ناکام‘40ہزار طلبہ کا مستقبل تاریک

اسلام آباد(نیوزلائن)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اطلاعات و ترسیلات کے نظام میں بڑے پیمانے پر خامیاں اور غفلت و لاپرواہی سامنے آئی ہے۔ یونیورسٹی ضروری معاملات میں بھی اطلاعات اور ترسیلات بروقت اور لازمی کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔اور یونیورسٹی حکام نے چالیس ہزار سے زائد طلبہ کا سمسٹر ضائع کردیا ہے۔نیوزلائن کے مطابق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تمام تر معاملات اور تدریس کا دارومداراطلاعات اور ترسیلات بروقت اوردرست ہونے پر ہے۔ یونیورسٹی حکام نے داخلہ فارم جمع ہونے کے بعد طلبہ کو کتب بھجوانی ہوتی ہیں۔ ورکشاپ کے اطلاعات کرنی ہیں اور ٹیوٹرز بارے معلومات فراہم کرنی ہیں۔رواں سمسٹر کے دوران یونیورسٹی حکام ملک بھر میں طلباء و طالبات کواپنے شیڈول‘ ورکشاپس‘ ٹیوٹر انفارمیشن فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یونیورسٹی کا ڈاک ڈیپارٹمنٹ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ کتب کی فراہمی بھی مکمل طور پر نہیں ہو سکی۔ یونیورسٹی کے ذرائع کے مطابق رواں سمسٹر میں چالیس ہزار سے زائد طلبہ کو کتب کی فراہمی نہ ہونے‘ ورکشاپس کے لیٹر نہ پہنچائے جانے اور ٹیوٹرز بارے معلومات فراہم نہ کئے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔یونیورسٹی حکام اپنی اطلاعات و ترسیلات کی فراہمی نہ ہونے کی غلطی کو کا ازالہ کرنے سے انکاری ہیں اور اپنی غلطی کی سزا بھی طلباء و طالبات کوینے پر تلے ہوئے ہیں۔ بروقت اطلاعات و ترسیلات نہ ہونے کی وجہ سے اوپن یونیورسٹی کے چالیس ہزار سے زائد طلبہ کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے

Related posts