پانامہ کیس کی جے آئی ٹی نواز شریف کے ڈائریکٹ ماتحت ہو گی


اسلام آباد(رانا حامد یٰسین)سپریم کورٹ کے حکم پر پانامہ کیس کیلئے بننے والی جے آئی ٹی معاملے کی کریمنل تفتیش کرے گی۔نیوز لائن کے مطابق جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میاں نواز شریف‘مریم نواز‘ حسن نواز اور حسین نواز سے تحقیقات کرے گی اور ان کے بیرون ملک اثاثوں بارے انکوائری کرے گی۔ جے آئی ٹی کو نواز شریف فیملی کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور منی ٹریل کی تحقیقات کا ٹاسک بھی سونپا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رقوم کی بیرون ملک منتقلی کے ذرائع اور طریقہ کار بارے بھی تحقیقات کی جائیں گی۔قانونی ماہرین کے مطابق جے آئی ٹی معاملے کو کریمنل تفتیش کے طور پر لے گی اور کیس میں ملوث افراد کو ملزم کے طور پر طلب کرے گی۔کیس میں ملوث افراد میاں نواز شریف‘ مریم نواز‘ حسن نواز اور حسین نواز ہیں اور جے آئی ٹی ان سے ایسے ہی تفتیش کرنے کی پابند ہے جیسے عام ملزمان سے کی جاتی ہے۔تاہم ماہرین اس امر پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ جے آئی ٹی میں ایف آئی اے کا ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل‘ نیب اور سکیورٹی ایکسچینج کمیشن‘ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے شامل ہونگے۔اور یہ تمام ادارے ہی وزیر اعظم پاکستان کے ماتحت ہیں اوریہ تمام ادارے ہی وزیر اعظم کو رپورٹ دینے اور پرائم منسٹر کے احکامات ماننے کے پابند ہیں۔ صرف جے آئی ٹی کے نمائندے ہی نہیں بلکہ ان کے افسران بھی وزیر اعظم کے احکامات ماننے کے پابند ہوں اور قانونی طور پر انہیں انکار نہیں کرسکتے۔کیس کے مرکزی ملزم میاں نواز شریف ہیں جو کہ وزیر اعظم پاکستان ہیں۔اس طرح نواز شریف کے کریمنل کیس کی تفتیش کیلئے بننے والی جے آئی ٹی میں سب کے سب نواز شریف کے ماتحت شامل ہوں گے اور نواز شریف کو ”سر“کہنے والے ہوں گے۔ اپنے ہی”باس“سے یہ جے آئی ٹی کیسے غیرجانبدارانہ تفتیش کرے گی اس پر پوری دنیا کی نظریں ہوں گی جبکہ کیس کے مرکزی ملزم (جس کے مستقبل او ر سیاست کا تمام تر دارومدار اس کیس کی تحقیقات کے نیائج سے جڑا ہوا ہے) اور دیگر ملزمان کیونکر تفتیش میں آڑے نہیں آئیں گے۔

Related posts