ایران کیخلاف بننے والی عرب اتحاد فوج کیلئے راحیل شریف کواین او سی جاری


اسلام آباد(نیوزلائن)نواز شریف حکومت نے سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والی ”اسلامی اتحاد“فوج میں شمولیت کیلئے جنرل راحیل شریف کو این او سی جاری کردیا ہے ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والی اتحادی فوج کی سربراہی کیلئے جنرل راحیل شریف کا نام لیا جا رہا تھا تا ہم نواز شریف حکومت اور خاص طور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے اس اتحاد کی سربراہی کیلئے جنرل راحیل شریف کے نام کی تردید کی جاتی رہی۔ اب وفاقی حکومت نے باضابطہ طور پر جنرل راحیل شریف کو اس عرب اتحاد فوج میں شمولیت کیلئے این اوسی جاری کردیا ہے۔ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والی عرب اتحاد فوج براہ راست نہیں تو ان ڈائریکٹ ایران کیخلاف استعمال کیجائے گی پاکستان نے اب تک اس اتحادی فوج میں شمولیت سے انکار کیا ہے اور سعودی عرب کے2015میں یمن پر حملے کے وقت غیرجانبدار رہا تھااور پاکستان نے بہت زیادہ دباؤ کے باوجود یمن کیخلاف اپنی افواج سعودی اتحادی افواج کی مدد کیلئے بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔ مگر اب جنرل راحیل شریف کی شکل میں پاکستان اس سعودی اتحادی فوج میں شامل ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ سعودی حکومت کی ملازمت میں جانے کے بعد جنرل راحیل شریف ایران اور یمن کیخلاف کارروائی کی صورت میں فوج کی سربراہ ہوتے کوئی انکار کرنے اور یمن اور ایران کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے انکار کی پوزیشن میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی فوج بھی اس اتحاد میں شامل کئے جانے کیلئے بھجوائی جائے گی یا ریٹائرڈ پاکستانی فوجیوں کو اس اتحادی فوج میں شامل کئے جانے کیلئے این او سی دئیے جارہے ہیں یا نہیں۔

Related posts