Now The Game Over for Nawaz Sharif


اسلام آباد(تجزیہ حامد یٰسین)پانامہ کیس کا سپریم کورٹ کا فیصلہ میاں نواز شریف کیلئے مشکلات میں مسلسل اضافے کا باعث بنے گا۔ اور میاں نواز شریف کیلئے حکومت میں رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کی سیاسی اور انتظامی مشکلات ہر آنیوالے دن کیساتھ بڑھتی جائیں گی۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ اگرچہ معاملات کو سنبھالنے کی اپنی سی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ اپوزیشن کی تمام نہیں تو چند ایک پارٹیوں کو ہی اپنے ساتھ ملا لیں اور جمہوریت کے تحفظ کے نام پر اپنے اقتدار کا آخری سال اپوزیشن رہنماؤں کو ساتھ ملا کر نکال لیں لیکن ایسا کرنا ان کیلئے ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ثابت ہو گا۔وزیر اعظم کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو پی ٹی آئی یا عمران خان اور ان کے اتحادیوں سے اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا خطرہ وہ پیپلز پارٹی اور آصف زرداری سے محسوس کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی چار سال سے ان کی مخالفت کر رہی ہے اور حکومت کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکی اسی لئے میاں نواز شریف اس سے زیادہ زیادہ خطرہ محسوس نہیں کر رہے۔ میاں نواز شریف کوپانامہ کیس کے فوری ردعمل میں پیپلز پارٹی اور خاص طور پر آصف زرداری سے اتنے سخت مؤقف اور فوری استعفے کا مطالبہ آنے کی توقع نہیں تھی۔ اب بھی وہ پی ٹی آئی‘ جماعت اسلامی‘ شیخ رشید سے زیادہ پیپلزپارٹی سے خطرہ محسوس کررہے ہیں ان کی سوچ یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے میدان میں نکلنے سے جمہوریت کے نام پر ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوگا اور غیرسیاسی قوتیں ان کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔پانامہ کی جے آئی ٹی میں حساس فوجی اداروں کے نمائندوں کی موجودگی بھی ان کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کیلئے اب ”گیم اوور“ ہو چکی ہے۔ ان کیلئے اپنے اقتدار کو طوالت دینا اب ممکن نہیں رہا۔ اپنی جگہ اپنی ہی پارٹی کے کسی رہنما کو وزارت عظمیٰ کیلئے نامزد کرنے کے سوا ان کے پاس مسلم لیگ ن کی حکومت کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

Related posts