علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی حکام نے بڑا علمی خزانہ ضائع کردیا


اسلام آباد(رانا حامدیٰسین)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی حکام نے بڑا علمی خزانہ ضائع کردیا۔یونیورسٹی کی ہزاروں نادرونایاب کتابیں پراسرار طور پر غائب ہوگئیں۔ یونیورسٹی کی لائبریری میں کئی دہائیوں سے رکھی کتابیں صفائی کے نام پہلے سٹور میں رکھوائی گئیں بعد ازاں سٹور سے بھی غائب پائی گئیں۔نیوزلائن کے مطابق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی لائبریری میں رکھی ہزاروں نایاب کتابیں پراسرار طور پر غائب ہو گئی ہیں۔ یونیورسٹی ریکارڈ کے مطابق کتابیں آج بھی لائبریری میں موجود ہیں جبکہ عملی طور ان نایاب کتابوں میں سے ایک کتاب بھی لائبریری کا حصہ نہیں ہے۔ غائب ہونے والی کتابوں کی تعداد10سے 12ہزار بتائی جاتی ہے جبکہ یہ کئی دہائیاں پرانی تھیں اور ان میں سے ہزاروں کتابیں ایسی ہیں جن کے نئے ایڈیشن بھی میسر نہیں ہیں۔ بہت سے کتابیں قیام پاکستان سے پہلے کی تھیں اور متحدہ ہندوستان کے وقت کی لکھی ہوئی ہیں۔ متعدد کتب پر ان کے لکھاریوں کے نوٹ ہیں۔ یہ نایاب کتابیں کئی دہائیوں سے لائبریری کا حصہ تھیں اور ان سے کتابوں سے محبت رکھنے والے سکالرز استفادہ کرتے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق لائبریری حکام نے ان نایاب کتب کو ”پرانی اور فرسودہ کتابیں“قرار دے کر پہلے ان کو سٹور میں رکھوایا چند ماہ تک یہ کتابیں سٹور میں گرد میں ”اٹی“پڑی رہیں بعد ازاں اچانک سٹور سے بھی غائب ہوگئیں۔ نیوزلائن کے مطابق کتابوں کے سٹور سے بھی غائب ہونے کا انکشاف چند سکالرز کی طرف سے ان نایاب کتب میں سے کچھ کتابوں کے طلب کرنے پر ہوا۔ سکالرز کو ان کی مطلوبہ کتب تو نہ مل سکیں تاہم یہ انکشاف ضرور ہو گیا کہ لائبریری کے ریکارڈ میں موجود کتب عملی طور پر لائبریری میں ہیں اور نہ ہی سٹور میں پائی جا رہی ہیں۔اس حوالے سے سکالرز اور ادبی حلقوں کا کہناہے کہ اوپن یونیورسٹی کے حکام نے یہ بہت بڑا ظلم کیا اور ایک بڑے علم خزانے کو ضائع کر دیاہے۔ کتابیں جتنی پرانی ہوتی ہیں اتنی ہی اہمیت کی حامل اور قابل قدر ہوتی ہیں اوپن یونیورسٹی نے ایک بڑا علمی خزانے مجرمانہ غفلت میں ضائع کردیا۔ حکام صرف یہ ہی بتا دیں کہ وہ کتب کس ردی والے کو بیچی ہیں تو اس سے ہی وہ دوبارہ خرید محفوظ کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے مگر یونیورسٹی کے لائبریری حکام اس بارے میں لفظ بھی سچ بتانے کو تیار نہیں ہیں۔ اس بارے میں رابطہ کرنے پر یونیورسٹی کے ترجمان عبیداللہ ممتاز اور وائس چانسلر کے ترجمان جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کتابیں کہیں چوری نہیں ہوئیں پرانی کتابیں تھیں سٹور سے ادھر ادھر ہوبھی گئی ہیں تو یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے

Related posts