ٹیکس چوروں کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے پر غور


اسلام آباد(نیوزلائن) پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ٹیکس نادہندگان کے شناختی کارڈاورپاسپورٹ بلاک کی سفارش کر دی۔چیئر مین ایف بی آار ڈاکٹر محمد ارشاد نے انکشاف کیا کہ 300ارب سے زیادہ کے ٹیکس کیسز عدالتوں میں زیر التوا ء ہیں۔ چیئر مین ایف بی آر نے کیسز کی جلد سماعت کیلئے قانون سازی کے ذریعے مدد کی درخواست کر تے ہوئے کہا کہ ایسی قانون سازی کی جائے کہ ٹیکس کیسز میں عدالتی حکم امتناع 6 ماہ سے زیادہ نہ چل سکے۔کمیٹی نے اربوں روپے کی ریکوری میں سست روی پر تشویش کا اظہار کیا۔ گزشتہ روز کمیٹی کا اجلاس قائمقام چیئرمین سردار عاشق گوپانگ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے مالی سال 2013-14کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کو آڈٹ حکام نے بتایا کہ ان لینڈ ریونیو کے 26ارب 37کروڑروپے کی مالیت کے مقدمات عدالتوں میں زیر التو ا ہیں جبکہ ایف بی آر نے اب تک صرف 20ارب روپے کی وصولیوں کی تصدیق کروائی ہے۔کمیٹی کو ایف بی آر کے چیئرمین ڈاکٹر ارشاد نے بتایاکہ لیگل ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات پر کافی توجہ دی ہے اربوں روپے کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلا کو صرف20سے 30ہزار روپے ماہانہ کے دیئے جاتے تھے اب وکلا کو 65ہزار روپے دیئے جارہے ہیں اور اس وقت صرف ان لینڈ ریونیو کے 22مقدمات زیر التواہیں۔انہوں نے بتایا کہ ریکوریوں کے حوالے سے بہت تیزی سے کام ہو رہاہے۔اس حوالے سے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی پیر وی کے لئے پی اے سی کی ہدایات کی روشنی میں اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ہائی کورٹ سمیت دیگر عدالتوں سے باقاعدہ درخواست کی گئی ہے کہ مقدمات کی سماعت کے لئے بینچ تشکیل دیئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکسوں کی مانیٹرنگ کے لئے ایک سافٹ ویئر تیار کیا گیاہے۔

Related posts