پاکستان کا سب سے بے بس اور لاچار مزدور


پاکستان میں ہر طرح کا مزدور پایا جاتا ہے اور تمام ہی محنت کش بدترین استحصال کا شکار ہیں۔اسلام کے نام پر بننے والی مملکت خداد اد میں محنت کشوں کو خون پسینہ ایک کرکے بھی مزدوری کے نام پر اتنا بھی نہیں ملتا کہ وہ دو وقت کی روٹی ہی کھا سکے دیگر ضروریات زندگی پوری کرنا تو ان کیلئے ناممکن حد تک مشکل ہو چکی ہیں۔ حکومت نے مزدور کیلئے تیرہ ہزار روپے ماہانہ محنتانہ مقرر کر رکھا ہے اس تیرہ ہزار میں دوافراد کا ماہانہ خرچ چلانے کا طریقہ کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتا اس کیلئے بھی ”منی لانڈرنگ کیس“ کے وعدہ معاف گواہ بننے والے وزیر خزانہ سے پوچھنا پڑتا ہے یا تیس سال سے پنجاب اوروفاق کے اقتدار پر قابض ”شریف“ پرائم منسٹر اورخود کو انقلابی ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ”شریف“وزیراعلیٰ سے پوچھنا ہو گا۔اللہ بزرگ و برتر کا برابری کا نظام رائج کرائے جانے کیلئے بننے والی مملکت میں مساویانہ تو ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام بھی رائج نہیں ہو سکا۔ سرمایہ داری کی بھی بدترین قسم(جو شائد اس وقت دنیا کے کسی بھی ملک میں رائج نہیں ہے)اس ملک میں پائی جاتی ہے۔ جہاں مزدوروں اور محنت کشوں کے نمائندے تو لاکھوں روپے کا محنتانہ لیتے ہیں مگر ان کو منتخب کرنے والے محنت کشوں کو صرف تیرہ ہزار روپے پر”ٹرخہ“ دیا جاتا ہے۔اس ملک میں کیا نظام ہو گا جہاں ”نام نہاد“عوامی نمائندوں کو توسرکاری تنخواہ لینے کا بھی حق اور ساتھ میں کسی دوسری جگہ فائیو سٹار”نوکری“کرنے حق بھی تفویض کردیا گیا ہے یہی نہیں انہیں ساتھ ہی میں کاروبار کرنے ’ترقیاتی فنڈز کے نام پر سیاسی رشوت اور اس سیاسی رشوت میں سے ایک بڑا حصہ کمیشن کے نام پر اپنے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی بھی اجازت ہے۔مگر مزدور (سرکاری ہو یا غیرسرکاری)اسے دوسری نوکری کرنے کی اجازت نہ قانون دیتا ہے اور نہ”مالک“۔
پاکستانی مزدور کا ہر طرح سے استحصال ہو رہا ہے اور یہاں استحصال کی وہ بدترین شکل موجود ہے کہ نوآبادیاتی دور کی حقیقت جاننے والے بزرگ ”انگریج“ کے دور کو یاد کرتے ہیں۔مزدور انڈسٹری کا ہو یا تجارتی اداروں کا‘ سرکاری محکموں کے نوکر ہوں یا گھروں میں کام کرنے والے‘ بھٹوں پر کام کرنے والی لیبر ہو یا گلی محلوں میں دیہاڑی لگانے والی‘ استحصال سب کا ہو رہا ہے اور سبھی کو اپنے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے جوئے شیر لانے کے مترادف جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ مگر پاکستان میں ایک بدترین استحصال کا شکار طبقہ ایسا بھی ہے جن کے سامنے یہ تمام مزدور اور محنت کش بہت زیادہ ”خوشگوار ماحول“ اور ”بہترین فضاء“میں کام کرتے محسوس ہوتے ہیں۔یہ ایسا مزدور ہے جسے کوئی مزدور ماننے کیلئے تیار نہیں مگر وہ استحصال کی بدترین شکل کا شکار محنت کش ہے جس کیلئے قانون میں کوئی جائے امان ہے اور نہ معاشرہ ہی اس مزدور کیلئے حالات بہتر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ملک بھر میں حالات اتنے خراب اور سرمایہ دارو ں کا باہمی رشتے داریوں اور پیسے کے بل بوتے پر میڈیا پر”کنٹرول“کے باوجودکبھی کبھار ہی سہی مزدوروں کے حقوق کیلئے بھی کوئی نہ کوئی آواز اٹھ جاتی ہے مگر اس ملک کے سب سے استحصال زدہ طبقے‘ بدترین حالات کا شکار ”ورکر“ کیلئے کوئی میڈیا ”آؤٹ لیٹ“ آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی حکومت‘ این جی اوز‘ تنظیمیں ان کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے پر آمادہ ہیں۔
پاکستان کے تمام طبقات‘ سرکاری و پرائیویٹ اداروں‘ سیاسی جماعتوں‘وفاقی، صوبائی، شہری حکومتوں‘ تنظیموں اور دنیا بھر کو اخلاقیات‘ انسانیت‘ قانون کا سبق پڑھانے والا میڈیاخوداستحصال‘ انسانی حقوق کی پامالی‘ اخلاقیات کا جنازہ نکالنے‘ قانون سے کھلواڑ کرنے کا سب سے بڑا مرکز ہے۔پاکستانی میڈیا کے مالکان‘ ہائیر مینجمنٹ کسی قانون کو مانتے ہیں نہ کسی اخلاقی تقاضے پر پورا اترنا ضروری سمجھتے ہیں۔ انسانیت نام کی کوئی چیز تو شائد ان کے قریب سے بھی کبھی نہیں گزری۔ بلیک میلنگ خود بھی کرتے ہیں اور اپنے ورکرز کوبھی مجبور کرتے ہیں کہ وہ بھی کریں۔قانون سے کھلواڑکرنا ان کا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے اور قانون شکنی سب سے زیادہ میڈیا کے اداروں میں ہوتی اور میڈیا مالکان کرتے اور کرواتے ہیں۔

پاکستان کا سب سے زیادہ استحصال زدہ طبقہ میڈیا ورکر ہیں۔ اس میں صحافی اور نان صحافی کی تمیز بھی نہیں۔ سب ہی اس استحصال کا شکار اور بدترین صورتحال سے دوچار ہیں۔اعدودوشمار کے مطابق پاکستان میں پانچ لاکھ سے زائد میڈیاورکر ہیں مگر ان میں سے چند سو کے سوا کسی کو انسان ہونے کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ بانڈڈ لیبر کی بدترین شکل میڈیا کے اداروں میں موجود ہے۔ ان میں سے ساڑھے تین لاکھ سے زائد ورکر تو وہ ہیں جن کو ”نان سکلڈ“ورکر کیلئے مختص تیرہ ہزار روپے کی تنخواہ بھی نہیں ملتی۔ باقی کے ورکرز بھی مراعات یافتہ میڈیا ٹائیکونز کے غلام سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ ان مراعات یافتہ گنتی کے چند درجن ”صحافی نما اینکرز“یا ”اینکرز نما صحافیوں“ کیلئے تو سب مراعات اور نوازشیں ہیں مگر اصل ورکر کو کوئی میڈیا مالک کچھ دینے کو تیار نہیں۔اب ایسا بھی نہیں کہ ”صحافی نما اینکرز“یا ”اینکرز نما صحافی“ کام بہت زیادہ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ تو صرف سکرین پر آکر دوسروں کا کیا ہوا کام بولتے ہیں ایک اینکرز کے ایک گھنٹے کے پروگرام کیلئے درجن بھر صحافی کام کرتے ہیں جبکہ درجن بھر دوسرا ورکر اس کے علاوہ ہے۔ بیس سے تیس افراد کے کئی گھنٹے کے کام کو اینکرز صرف ایک گھنٹہ پیش کرکے اپنا واہ واہ کرواتا اور مالک کے کام نکلوانے کیلئے استعمال کرتا ہے۔میڈیا ورکر کو مزید کیا مراعات ملیں انہیں تو تنخواہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔کسی ٹی وی چینل یا اخبار میں یکم تاریخ کو تنخواہ دئیے جانے کا تصور ہی نہیں ہے۔90فیصد اداروں میں کئی کئی ماہ تاخیر سے تنخواہ ملتی ہے۔بہت سے ادارے تو ایسے بھی ہیں جہاں تنخواہ دینے کا تصور ہی نہیں۔ میڈیا مالکان نے ”اپنی کھا آؤ۔ ساڈی لے آؤ“ کا اصول اپنا کر بلیک میلنگ اورمہذب انداز بلکہ دھمکی آمیز انداز میں بھیک مانگنے کا وطیرہ اپنا رکھا ہے۔سندھ‘ پنجاب‘ خیبر‘ بلوچستان کے ریجنل اخبارات اور چھوٹے ٹی وی چینلز جیسے رائل‘ پنجاب ٹی وی‘ روز‘ اب تک کی تو کیا ہی بات کریں۔ یہاں تو آوے کاآوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ تنخواہیں نہ دینے اور کئی کئی ماہ تاخیر سے دینے میں کئی ایک بڑے نام بھی ملوث ہیں۔ آج ٹی وی (بزنس ریکارڈر گروپ) چھوٹا نام تو نہیں مگر تنخواہیں روکے رکھنے میں ان کے مالکان کو بھی جانے کونسی تسکین ملتی ہے۔ خبریں اور چینل فائیو کی کمائی بھی کوئی کم نہیں۔ پاکستان (مجیب الرحمان شامی والا پاکستان) بھی کم کمائی نہیں کرتا۔”بول“نے دعوے تو بہت کئے مگر حالات اس کے بھی خبریں سے مختلف نہیں۔اے آر وائی بہت بڑا نام ہے مگر اربوں روپے کا مالک ہونے کے باوجود اس کے مالکان تنخواہوں کی ادائیگی بروقت کرنے پر آمادہ نہیں۔ابھی کچھ پرانی بات نہیں کہ چینل فائیو میں کام کرنے والے دو ورکروں نے صرف تنخواہ نہ ملنے کو درد بڑھ جانے کی بناء پر چند ماہ کے فرق سے یکے بعد دیگرے خودکشی کرکے اپنے میڈیا ورکر بھائیوں کی حالت زار دنیا کو سمجھانے کی کوشش کی مگر اس کے باوجود کوئی انقلاب آیا نہ حالات درست کرنے کیلئے حکومت سمیت کسی ادارے نے کوئی کردار ادا کیا۔

تنخواہ کی ادائیگی تو اسے ہو گی جس کی کوئی تنخواہ مقرر کردی گئی ہے۔ پاکستان میں اخبارات اور ٹی وی چینلز کے تین سے ساڑھے تین لاکھ ورکرز (نمائندگان) ایسے بھی ہیں جن کو سرے سے کوئی تنخواہ ہی نہیں دی جاتی۔ ساڑھے تین لاکھ ورکرز کو تنخواہ دئیے بغیر کام لینا شائد ہی کسی دوسرے میڈیم میں ممکن ہو سکے لیکن استحصالی نظام میں ایسا ہو رہا ہے اور اسی پاکستان میں ہو رہا ہے جہاں حکمران قانون کا بول بالا کرنے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔پاکستان کا شائد ہی کوئی ایسا ٹی وی چینل یا اخبار ہو جس نے مفت میں نمائندے نہ رکھے ہوں۔ جنگ‘ نوائے وقت‘ ڈان‘ ایکسپریس‘ دنیا‘ نئی بات‘ خبریں‘ 92ٹی وی‘ دن‘ پاکستان‘ جیوٹی وی‘ نیو ٹی وی‘ اب تک‘ ایکسپریس نیوز‘ وقت ٹی وی‘ ڈان ٹی وی‘ دنیا ٹی وی‘ سماء ٹی وی‘الغرض کسی کا بھی نام لے لیں اس اخبار اور ٹی وی چینل کے فری میں کام کرنے والے نمائندگان موجود ہیں بلکہ یہ میڈیا آؤٹ لیٹ 95فیصد نمائندگان سے مفت میں کام لیتے ہیں۔ اخبارات کے نمائندگان کو تو اضافی کام کے طور پر اشتہارات اکٹھے کرکے بھجوانے ہوتے ہیں اور اشتہارات کے علاوہ کئی ایک اخبارات کے نمائندگان تو ایڈیٹر یا مالک کو ”ماہانہ فیس“ بھی دیتے ہیں۔نمائندگان ہوتے بھی 24گھنٹے کے ملازم ہیں۔ ان سے جب مرضی کام لیا جا سکتا ہے کئی چھٹی ملتی ہے نہ کام کا وقت مقرر ہے۔اپنے علاقے میں آنے پر اخبارات کے مالکان یا مالکان کے”پٹھو“کو نذرانے پیش کرنا بھی نمائندے کی ذمہ داری بلکہ مجبوری ہے۔

پاکستان کے 90فیصد اخباری کارکنوں کو یہی بھی معلوم نہیں کہ جن اخبارات کیلئے وہ کام کرتے ہیں ان کے وہ ملازم بھی ہیں کہ نہیں۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز نے استحصال کا اگلا نظام اپنا رکھا ہے۔ جس ادارے کیلئے ورکر کام کر رہے ہوتے ہیں اس کے وہ ملازم ہی نہیں ہوتے تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ورکرز کسی دوسری کمپنی کے ہوتے ہیں۔ یہ کمپنی کہیں رجسٹرڈ ہے اور کہیں نان رجسٹرڈ۔ اس کمپنی کا کوئی بزنس نہیں۔ یہ کمپنی کوئی کام نہیں کرتی۔ یہ کمپنی کوئی ٹیکس نہیں دیتی۔ اس کمپنی کا میڈیا کے اداروں سے کوئی معاہدہ نہیں ہوتا۔ صرف ملازمت کا لیٹر اس کمپنی کا ہوتا ہے اور بس۔ باقی کام میڈیا آرگنائزیشن کیلئے کرنا ہوتا ہے مگر میڈیا آرگنائزیشن ورکر کی ذمہ دار ہے اورنہ اس کی زندگی موت سے اس کا کوئی لینا دینا۔یہ استحصالی ٹھیکیداری نظام متعارف کروانے کا سہرا بھی جنگ اور نوائے وقت کے سر ہے جس نے پاکستان کا میڈیا کا نظام تباہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

پاکستانی میڈیا کے تمام ادارے ٹیکس چوری اور ”مس ڈیکلریشن“ کے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں مگر کوئی ان کے خلاف ایکشن لینے کو تیار نہیں ہے۔ایف بی آر کا ریکارڈ نکلوا کر دیکھ لیا جائے۔کسی ایک ادارے نے بھی اپنا ریکارڈ اور اپنے ادارے کے ملازمین کا ریکارڈ ویسا نہیں دیا ہو گا جو انہوں نے حکومت کے دیگر اداروں کو دے رکھا ہے۔ پی آئی ڈی‘ ڈیکلریشن اجراء اتھارٹی(ڈپٹی کمشنر یا ڈی سی او)‘ ڈی جی پی آرکے پاس تمام اخبارات اور پیمرا کے پاس تمام ٹی وی چینلز اور ریڈیو سٹیشنز کا ریکارڈ موجود ہے۔مگر کسی بھی ادارے کو انہوں نے ملازمین کا درست ریکارڈ نہیں دے رکھا۔صرف ڈی جی پی آر‘ پی آئی ڈی اور پیمرا کا ریکارڈ آپس میں ملا کر دیکھ لیا جائے اور اس کے مطابق میڈیا ورکرز کو حقوق دلوا دئیے جائیں تو میڈیا ورکرز کے ساٹھ فیصد مسائل حال ہو جائیں گے۔
پاکستانی میڈیا ورکرز کے مسائل کے تناظر میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکرٹری جنرل شمس الاسلام ناز میڈیا ورکرز کے مسائل کا واحد حل ملک بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اس حوالے سے چیک رکھنے میں ہے کہ ان کے ملازمین کون کون ہیں۔ وہ انہیں کیا ادا کرتے ہیں اور مفت میں کس کس سے کام لے رہے ہیں۔تمام اداروں کو پابند بنایا جائے کہ وہ سالانہ اپنے ملازمین اور آمدن و اخراجات کے حسابات حکومتی اداروں کو جمع کروانے کے پابند ہوں۔ اخبارات اور ٹی وی چینل کی جمع کروائی گئی لسٹوں کو یونین اور پریس کلبوں سے تصدیق کروایا جائے۔ غلط معلومات دینے والوں کیخلاف ”مس ڈیکلریشن“ اور دھوکہ دہی کے مقدمات درج کئے جائیں۔آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائز کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اکرام بخاری کا کہنا ہے کہ صحافی برادری کے پریس کلبوں پر فوکس کرنے اور یونین کو نظر انداز کرنے کی روش کی وجہ سے میڈیا ورکر کا نقصان ہورہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں یونین اتنی زیادہ کمزور ہوئی ہے کہ اس کیلئے میڈیا ورکرز کا تحفظ کرنا مشکل تر ہو چکا ہے اس میں میڈیا ورکر کا اپنا سب سے زیادہ قصور ہے کہ وہ وقت کے تقاضوں کا ادراک نہیں کر سکا اور پریس کلبوں کی چکا چوند میں گم ہو گیا۔ابھی بھی ضرورت ہے کہ صحافی اور نان صحافی کی تمیز کو ختم کرکے میڈیا ورکر متحد ہو کر کام کریں اور مالکان سے اپنا حق قانونی طریقے سے چھیننے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر یکجان ہو کر جدوجہد کریں تو کوئی امر مانع نہیں کو ان کے مسائل حل نہ ہوں۔

پاکستانی میڈیاورکراس لحاظ سے بھی انتہائی بے بس اور لاچار ”مزدور“ ہے وہ اپنے حق کیلئے آواز بھی بلند نہیں کر سکتا۔دنیا بھر کے محنت کشوں اور استحصالی طبقات کیلئے آواز بلند کرنے والا صحافی اور میڈیا ورکر اس قدر بے بس ہے کہ اپنے حق کیلئے ایک لفظ بھی اپنے اخبار میں لکھ یا ٹی وی چینل پر بول نہیں سکتا۔میڈیا ورکر کے حق کیلئے آواز بلند کرنے کیلئے بھی اسے میڈیا مالک سے منظوری حاصل کرنا پڑتی ہے۔میڈیا ورکر کے حق کیلئے بلند کی گئی آواز کو خود میڈیا ہی دبا دیتا ہے۔ تنخواہ نہ ملنے پر دو میڈیا ورکروں نے خودکشی بھی کی تو کسی اخبار یا ٹی وی چینل نے ایک سطر کی خبر بھی نشر نہیں کی۔میڈیا ورکر کے حق کیلئے احتجاج اور جلوس بھی ہو اور کئی کئی گھنٹے سڑکیں بلاک اور نظام زندگی تباہ ہو جائے مگر اخبار میں خبر نہیں آئے گی۔ صحافتی تنظیموں کی بھی صرف وہی خبریں اخبار یا ٹی وی چینل کی سکرین کی زینت بنیں گی جس میں میڈیا مالک کو فائدہ ہوتا ہوگا۔
میڈیا ورکرز کے مسائل کا حل اتنا مشکل نہیں ہے۔ مگر اس میں سب سے زیادہ کردار حکومت کو ادا کرنا پڑے گا۔ حکمران مگر اس کیلئے تیار اس نہیں ہیں کہ ورکر کیلئے کام کرنے پر انہیں میڈیا مالکان کے عتاب کا شکار ہونا پڑتا ہے اور میڈیا ورکرز کی ہی کچھ کالی بھیڑیں ایسے میں مالکان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر حکمرانوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں لگ جاتے ہیں جن کا قصور صرف اتنا ہوتا ہے کہ ورکر کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے وہ میڈیا مالکان کو ناراض کر بیٹھے ہوتے ہیں۔مگر پھر بھی حکومت اور اداروں کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور کوئی نہ کوئی نظام وضع کرنا ہو گارپورٹ:حامد یٰسین

Related posts