پاکستانی چینل مالکان میڈیا پر پابندیوں کے حامی



اسلام آباد(نیوزلائن) پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے بول ٹی وی کا لائسنس معطل کرنے کے حکومتی فیصلے کے حق میں بیان جاری کردیا جس میں بول کے خلاف کئی طرح کے الزامات عائد کئے گئے ہیں اور پیمرا کے اقدام کو سراہا گیا ہے۔ پی بی اے کے اس اقدام سے نیا پنڈورا بکس کھل گیا ہے اور آزادی صحافت کے حوالے سے میڈیا مالکان کے نظریات واضح ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پی بی اے کا یہ بیان آزادی صحافت کے خلاف اور اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے پیمرا کی جانب سے بول ٹی وی کے لائسنس کی منسوخی کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بول ٹی وی کا لائسنس رکھنے والوں نے عالمی پیمانے پر خرد برد کی نگرانی کی۔ پی بی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ہے کہ پیمرا کا بول ٹی وی کے لائسنس کی منسوخی کا اقدام اطمینان بخش ہے، بول ٹی وی کا لائسنس رکھنے والوں نےعالمی پیمانے پر فراڈ کی نگرانی کی جب کہ امریکی محکمہ انصاف نے بھی بول کے مالک کی ایگزیکٹ کمپنی پر مقدمہ چلایا، ایگزیکٹ کے ملازم نے اعتراف کیا کہ جعلی ڈگری کا معاملہ ایگزیکٹ پاکستان کے دفاتر سے چلایا جارہا تھا۔ پی بی اے کا کہنا ہےکہ نیویارک ٹائمز، گارجین، بی بی سی اور پاکستانی میڈیا نے بھی ایگزیکٹ کوجعلی ڈگری کی کمپنی کےطور پر بے نقاب کیا جب کہ ایف بی آئی نے بھی ایگزیکٹ کےخلاف ثبوت ایف آئی اے کودیئے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ ایگزیکٹ کے انفرا اسٹرکچراور دیگراخراجات پر اربوں روپے خرچ کیے گئے، ایگزیکٹ چینلز کے اخراجات کہاں سے ادا کیے جارہے ہیں، پیمرا اور ایس ای سی پی حکام کو ان کے ذرائع آمدن سے متعلق پوچھنا چاہیے کیونکہ ایگزیکٹ کا ادا شدہ سرمایہ لاکھوں میں ہے۔ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے ایگزیکٹ سے متعلق اشتہار کے ذریعے کئی اہم سوالات بھی اٹھائے، پی بی اے نے عدالتوں، پیمرااور حکومت سے ایگزیکٹ چینلز کے فنڈز کے ذرائع کی تحقیقات کو کہا۔ پی بی اے کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹ کے چینلز 6 مہینے سے زیادہ عرصے سے چلتے رہے ہیں، پیمرا اور حکومت سے کہا تھا کہ ایگزیکٹ چینل کے پاس پیمرا کا این اوسی ہونے کی تحقیقات کی جائیں۔ پی بی اے کا کہنا تھا کہ بول ٹی وی نفرت انگیز اورعدم برداشت پرمبنی تقریرکا سب سے بڑاحامی بھی تھا جب کہ بول ٹی وی پاکستان میں آزاد اور خود مختار میڈیا کے لیے بھی خطرہ تھاماہرین اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی بی اے کا یہ بیان”مک مکا“کا صحافتی کاروبار کرنے والے میڈیا مالکان کی گھٹیاذہنیت کا آئینہ دار ہے۔ بول پر پابندی نقطہ آغاز ہے مستقبل میں میڈیا مالکان کو ایسی کئی ایک پابندیوں کیلئے تیار رہنا چاہئے

Related posts