زہریلے گھی کی فروخت جاری‘ پنجاب فوڈ اٹھارٹی”ڈیل“ کر کے خاموش


لاہور (ایم ایس ٹیپو)پنجاب بھر میں زہریلے اور مضر صحت گھی کی فروخت کھلے عام جاری ہے۔عوام کو گھی مافیا کے عتاب سے بچانے کیلئے انتظامیہ کچھ کو کرنے کو تیار نہیں جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی نے زہریلا گھی بنانے والوں کیساتھ ”خفیہ ڈیل“ کرکے اتھارٹی کو گھی مافیا کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک رکھا ہے۔نیوزلائن کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے میں بننے اور فروخت ہونے والے گھی کے نمونوں کے لیبارٹری تجزئیے کروائے تو 24مختلف اقسام کے گھی اور کوکنگ آئل مضر صحت پائے گئے۔ ان کے بارے میں لیبارٹری رپورٹ تھی کہ یہ گھی زہریلے ہیں اور انسانی صحت کے لئے زہر قاتل ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس بارے میں عوامی آگہی کا نوٹس جاری کیا اور گھی کمپنیوں کو ان برانڈز کی فروخت اور تیاری فوری بند کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ گھی اور کوکنگ آئل کے جن برانڈز کی زہریلے ہونے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں ان میں کسان گھی‘ کشمیرکینولا آئل‘شاہ تاج کوکنگ آئل‘ تلو بناسپتی‘ تلو کوکنگ آئل‘ شان کوکنگ آئل‘ شان بناسپتی‘ سویا سپریم کوکنگ آئل‘ سویا سپریم بناسپتی‘ صوفی سن فلاور کوکنگ آئل‘سمارٹ کوکنگ آئل‘ غنی کوکنگ آئل‘ کوکو بناسپتی‘ اولیو پریمئیم کینولا آئل‘ مومن کوکنگ آئل‘مومن بناسپتی‘ معیار بناسپتی‘سلوی سپینش اولیو آئل‘ سیزن بناسپتی‘ سن ڈراپ کوکنگ آئل‘ مان بناسپتی‘ ناز بناسپتی‘ مالٹا بناسپتی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد غیرمعیاری‘ نان رجسٹرڈ گھی اور کوکنگ آئل مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں۔پنجاب حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام گھی اور کوکنگ آئل انتہائی خطرناک اور انسانی جان کیلئے زہر قاتل کے مترادف ہیں۔ ان کا استعمال شہریوں اور خاص طور پر بچوں اور خواتین کو کینسر‘ ہارٹ اٹیک‘ برین ٹیومر‘ خواتین کے بانجھ پن اور دیگر کئی قسم کی بیماریوں کا شکار کر رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پنجاب فوڈ اتھارٹی نے گھی کمپنیوں کو نوٹس بھی جاری کئے تھے۔ ان کے خلاف کارروائی کیلئے اعلانات بھی ہوئے اور مارکیٹ میں ان کی فروخت بند کرنے کیلئے بھی ہدایات جاری کی گئیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام گھی کمپنیوں کے خلاف سرگرم بھی ہوئے۔ صوبہ بھر میں گھی فیکٹریوں اور تھوک میں گھی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن بھی شروع ہوا مگر پھر اچانک ہی یہ سب کچھ بند کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق سرمایہ دار ٹولے نے اپنے خلاف ایکشن ہوتا دیکھا تو نوٹوں کی چمک دکھا کر پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ایکشن رکوانے کیلئے سرگرم ہو گئے۔گھی کمپنیوں کے مالکان نے پہلے دھمکیوں اور میڈیا کا سہارا لینے کی کوشش کی مگر یہاں کامیابی نہ ہوئی تو پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی نورالامین مینگل سے ڈائریکٹ معاملات طے کرنے کیلئے اقدامات کرنے لگے۔ ایک درمیانی رابطے کے ذریعے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل سے”سپیشل“ملاقات کی۔ اس ملاقات میں گھی کمپنیوں اورنورالامین مینگل کے درمیان ایک”خفیہ ڈیل“ ہوئی۔ اس ”خفیہ ڈیل“ کیلئے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کو کیا دیا گیا یہ ابھی تک خفیہ ہی ہے تاہم اس خفیہ ڈیل کے تحت گھی کمپنیوں کے خلاف ایکشن بند کردیا گیا۔گھی کمپنیوں کو عوام کی جان و مال سے کھیلنے کی کھلی اجازت دیدی گئی۔زہریلا گھی اور کوکنگ آئل اسی طرح مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے مگر کوئی گھی اور کوکنگ آئل بنانے کیخلاف ایکشن لینے کو تیار نہیں ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ مضر صحت قرار دئیے گئے گھی اور کوکنگ آئل آج بھی غیرمعیاری اور مضر صحت ہی ہیں مگر ڈی جی نورالامین مینگل کی طرف سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے وہ کارروائی نہ کرنے پر مجبور ہیں۔

Related posts