جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کا 4ارب کا بجٹ‘ حکومتی گرانٹ ایک فیصد بھی نہیں




فیصل آباد(ایچ وائی احمد)جی سی یونیورسٹی فیصل آباد رواں مالی سال کے دوران چار ارب روپے کے اخراجات کرنے کو ہے اور خوش قسمتی سے اس کیلئے یونیورسٹی کوکشکول لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں پڑی۔یونیورسٹی کا سالانہ بجٹ چار ارب روپے سے متجاوزہو گیا مگر حیران کن طور پر اس میں پنجاب حکومت کی گرانٹ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔جامعہ کی اپنے ذرائع سے آمدن اتنی زیادہ ہے کہ اسے کسی کے سامنے کشکول پھیلانے کی ضرورت ہی نہیں۔ یونیورسٹی کو سب سے زیادہ گرانٹ ایچ ای سی ملتی ہے جو اس کے بجٹ کا 25فیصد کے لگ بھگ ہے۔نیوزلائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کا سالانہ بجٹ چار ارب روپے سے زائد کا ہے۔اور حیران کن امر یہ ہے کہ یونیورسٹی کو اتنے بھاری بجٹ کیلئے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور گرانٹس کا انتظار کرنے کی بھی زحمت نہیں کرنا پڑتی۔نیوزلائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کا رواں مالی سال کا بجٹ 4029ملین روپے کا ہے۔اس میں سے ڈیڑھ ارب فیکلٹی اور دیگر سٹاف ممبران کی تنخواہوں اور الاؤنسز پر خرچ ہوں گے۔ایک ارب روپے انتظامی اخراجات کیلئے رکھے گئے تھے اور اسی میں یونیورسٹی نے اپنے انتظامی معاملات چلائے۔ لگ بھگ ڈیڑھ ارب روپے ترقیاتی کاموں کیلئے رکھے گئے تھے مگر متعدد منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے اور امکان یہ ہے کہ جون تک مکمل بھی نہیں ہو سکیں گے۔یونیورسٹی کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق یونیورسٹی کو ایک ارب روپے کی گرانٹ ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے ملی۔ گزشتہ سال جولائی میں فیسوں سے آمدن کا اندازہ دو ارب روپے لگایا گیا تھا مگر فیسوں میں اضافے اور طلبہ کی اندازے سے زیادہ تعداد کے داخلہ لینے کی وجہ سے یونیورسٹی کی فیسوں کی آمدن اڑھائی ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ جامعہ کو اپنے ہی دیگر ذرائع سے آمدن توقعات سے زیادہ ہوئی اور بجٹ کے تخمینہ 29کروڑ 4لاکھ کی بجائے 45کروڑ روپے کی آمدن دیگر ذرائع سے ہوئی۔ یونیورسٹی کے رواں مالی سال کے بجٹ کی سب سے اہم خوبی خودانحصاری تھی اور سب سے حیران کن اور مایوس کن کردار پنجاب حکومت کی گرانٹ تھی۔ رواں مالی سال کے دوران پنجاب حکومت نے کمال مہربانی کرتے ہوئے اپنے کھربوں کے بجٹ میں سے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کو صرف ایک کروڑاٹھائیس لاکھ انیس ہزار روپے کی گرانٹ دی اور اس گرانٹ کی فراہمی پر بھی پنجاب حکومت کے نمائندے اتراتے پھرتے ہیں۔

Related posts