بحریہ ٹاؤن میں پویلین گرگیا‘ 10جاں بحق‘ 200زخمی


اسلام آباد(نیوزلائن)بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں ٹی وی پروگرام کے دوران پویلین گرنے سے دس افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ دو سو سے زائد شدید زخمی ہوگئے۔بحریہ ٹاؤن کے عملے اور نجی چینل کی ٹیم نے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی بجائے علاقے کی بجلی بند کردی اور زخمیوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر غائب ہو گئے۔اسلام آباد اور رالپنڈی کے سرکاری ہسپتالوں میں بھی زخمیوں کو علاج معالجے کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جارہیں اور شہری اپنی مدد آپ کے تحت علاج کروانے پر مجبور ہیں۔نیوزلائن کے مطابق حادثہ بحریہ ٹاؤن کے بحریہ انکلیو میں اس وقت پیش آیا جب نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے پروگرام عیدی سب کیلئے کی ریکارڈنگ کیلئے بحریہ ٹاؤن اور اے آروائی کے اشتراک سے پروگرام ہو رہا تھا۔ پروگرام کا آغاز ہوا ہی تھا کہ سٹیج کے قریب ایک پویلین گرگیا اور اس میں بیٹھے شہری ملبے تلے دب گئے۔ حادثہ ہوتا دیکھ کر بحریہ ٹاؤن اور اے آر وائی کا بیشتر عملہ غائب ہو گیا۔جبکہ بحریہ ٹاؤن کے کچھ افراد نے فوری ٹاؤن کے اس حصے کی بجلی بند کردی۔بے یارومددگار پڑے زخمی اور ان کے لواحقین کے شور و واویلے نے پروگرام میں موجود ہر شہری کا دل دہلا دیا۔ بحریہ ٹاؤن کے عملے نے حادثے کے زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی اور ایمبولینس کی طلبی کیلئے بھی اقدامات کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو پمز اور دیگر ہسپتالوں میں پہنچایا۔ ہسپتالوں میں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی مگر بہت بڑی تعداد میں زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی بھی نہ ہوسکی اور سرکاری ہسپتالوں نے ”بااثر“ ہاتھوں کے اشارے پر زخمیوں کو معمولی مرہم پٹی کے بعد ہسپتالوں سے بھگا دیا۔ملک کے مختلف شہروں سے آئے شہری اپنے اپنے شہر میں جا کر پرائیویٹ ہسپتالوں سے علاج کروانے پر مجبور ہیں۔ذرائع کے مطابق حادثے میں دس افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ دو افراد تو پمز میں جاں بحق ہوئے جبکہ دیگر ہسپتالوں اور موقع پر بھی شہری زندگی سے محروم ہوئے۔بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور اے آر ٹی وی کے مالک سلمان اقبال نے اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے وقوعہ کے حوالے سے قانونی کارروائی بھی رکوا دی۔ اطلاع ملنے اور وقعہ کی رپورٹ ہونے کے باوجود پنجاب پولیس نے وقوعہ کا مقدمہ درج نہ کیا‘ واقعہ کی شکائت ہونے اور پولیس کے مقدمہ درج نہ کرنے کی شکایات ملنے کے باوجود وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام نے مقدمہ درج کرنے اور قانونی کارروائی کرنے کی ہدائت کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی۔

Related posts