بحریہ ٹاؤن حادثہ: پاکستانی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا


اسلام آباد(نیوزلائن)بحریہ ٹاؤن میں پویلین گرنے کے حادثے میں متعدد افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملنے پر پاکستانی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا۔ہر وقت خبروں کی دوڑ کیلئے سرگرداں اور بریکنگ نیوز کے خبط میں مبتلاپاکستانی نیوز چینلوں میں سے کسی ایک چینل نے بھی واقعے خبر نشر کی اور نہ اس حادثے میں زخمی ہونیوالوں کیساتھ ہونے والے غیرانسانی سلوک کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے اور زخمیوں کی داد رسی کیلئے اقدامات کرنا ضروری سمجھا۔ حادثے کے ایک ہفتے بعد ایک چینل نے ادھوری سی رپورٹ دی اور زخمیوں اور مرنے والوں کی حالت زار سامنے لانے سے زیادہ زور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو فوکس کرتا رہا۔ نیوزلائن کے مطابق بحریہ ٹاؤن انکلیو میں اے آر وائی ٹی وی اور بحریہ ٹاؤن کے اشتراک سے ایک پروگرام کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی کہ انکلیو کا ایک پویلین گر گیا جس سے متعدد افراد جاں بحق ہوئے اور دو سے کے لگ بھگ زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔پاکستانی میڈیا چینلز ہر وقت خبروں کے حصول اور بریکنگ نیوز جاری کرنے کے چکر میں رہتا ہے مگر اتنی بڑی خبر بارے کسی میڈیا چینل کو خبر بھی نہ ہو سکی۔سینکڑوں گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی اور پاکستان کے ایک سو سے زائد ٹی وی چینل اور ڈیڑھ سے ریڈیو سٹیشن‘ دس ہزار سے زائد اخبارات نے اتنے بڑے حادثے کے حوالے سے ایک خبر بھی نشر یا شائع کرنے کی زحمت نہ کی۔صحافتی حلقوں کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ ٹی وی چینلز اور اخبارات اس خبر سے بے خبر تھے۔ متعدد چینلز اور اخبارات کے رپورٹرز نے خبر فائل کی تھی ایڈیٹوریل سیکشن میں متعدد نیوز ایڈیٹر‘ ڈائریکٹر نیوز خبر نشر اور شائع کرنے کے حق میں تھے مگر اخبارات اور چینلز کی انتظامیہ اور مالکان نے خبر روکنے کے احکامات صادر کر دئیے۔ نیوزلائن کے مطابق واقعہ کے ایک ہفتے بعد ایک چینل(سماء ٹی وی) نے ادھوری سے خبر نشر کی اور اس میں بھی اصل ذمہ داران کو بچانے کی کوشش کی گئی۔ بعد ازاں دن ٹی وی کے اینکر رائے حسنین طاہر نے اس پر ایک پروگرام کیا جس میں اینکر نے کچھ حقائق بیان کئے گئے مگر پروگرام کے شرکاء اور پینلسٹ نے حقائق پر بات کرنے کی بجائے تبصرے اور حقوق پر زور بیاں رکھا۔

Related posts