جی سی یونیورسٹی فیصل آبادمیڈیاکیلئے ”نو گو ایریا“ بن گئی


فیصل آباد(نیوزلائن)جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میڈیا اورغریب نوجوانوں کیلئے ”نو گو ایریا“بن گیا۔ بڑی گاڑی میں طمطراق سے آنیوالوں سے کوئی پوچھ گچھ ہوتی ہے اور نہ ایسے لوگوں کے آنے جانے پر کائی پابندی ہے۔یونیورسٹی کا مین گیٹ میڈیا کیلئے انڈین بارڈر پار کرنے سے بھی زیادہ مشکل کر دیا گیا۔ یونیورسٹی کی پبلک ریلیشننگ ٹیم بے بس تماشائی بن کہ رہ گئی ہے۔نیوزلائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میڈیا کیلئے مکمل طور پر نو گو ایریا بن چکی ہے۔یونیورسٹی میں صحافیوں کا داخلہ مکمل طور پر بند ہے اور جامعہ کا مرکزی گیٹ کراس کرنا صحافیوں کیلئے انڈین بارڈر کراس کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔اور یونیورسٹی میں جانے کیلئے میڈیا کے نمائندوں کو یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامیہ سے ”ویزہ“ حاصل کرنا پڑتا ہے۔فیصل آباد کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے بارے یونیورسٹی کے پی آر او عبدالقادر مشتاق اور دیگر حکام کو مسلسل بتایا گیا ہے مگر ”گارڈز مافیا“کے سامنے وہ بھی بے بس ہیں اورسکیورٹی گارڈز کی”اجارہ داری“کے سامنے کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔نیوزلائن کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے حالات کہیں نہیں ہوتے جیسے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہیں حتیٰ کہ فیصل آباد کے ہی دیگر اداروں اور جامعات میں میڈیا سمیت شہریوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ صرف میڈیا ہی نہیں غریب نوجوان داخلہ و دیگر معلومات اور سٹیفکیٹس وغیرہ کے حصول کیلئے بھی یونیورسٹی میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔ عینی شاہدین کے مطابق پابندی صرف عام شہریوں اور میڈیا کیلئے ہی ہے۔ قیمتی گاڑی دیکھ کر یونیورسٹی گارڈز گیٹ کھولنے کیلئے ایست بھاگتے ہیں کہ جیسے تاخیر سے ان کی برطرفی یقینی ہو۔ ایسے میں گاڑی اور سواروں کی چیکنگ کی زحمت بھی نہیں کی جاتی۔ جبکہ چور راستوں سے داخل ہونے والوں کیلئے یونیورسٹی میں کوئی پابندی نہیں ہے صحافیوں کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی بھی صورتحال سے آگاہ ہیں مگرایوانوں تک سفارش رکھنے والے ”بااثر“ چیف سکیورٹی گارڈ افتخار کے سامنے وہ بھی بے بس ہیں

Related posts