پنجاب پولیس کاروباری مقاصد کیلئے استعمال ہونے لگی


لاہور(ایم ایس ٹیپو)پنجاب پولیس کو کاروباری تنازعات نمٹانے اور بااثر بزنس مینوں کی پھنسی رقوم نکلوانے کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔جبکہ پولیس کے بنیادی فریضے لاء اینڈ آرڈر کو ممکن بنانا کی ذمہ داری کو پش پشت ڈال دیا جاتا ہے۔نیوزلائن کے مطابق پنجاب پولیس کاروباری تنازعات نمٹانے کیلئے کھلے عام استعمال کی جارہی ہے۔ بااثر شخصیات پولیس کے ذریعے اپنے حریفوں کیخلاف جھوٹے مقدمات درج کرواتی ہیں اور ان جھوٹے مقدمات اور کے سہارے کاروباری معاملات کو حل کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ اپنے کاروباری ”پارٹنر“ کو خوش کرنے کیلئے پولیس ہر طرح کے منفی ہتھکنڈے استعمال کرتی اور بلیک میلنگ تک اتر آتی ہے۔نیوزلائن کے مطابق دفعات 406‘ 405‘ 489ایف اور اسی طرح کی دیگر دفعات کے تحت جھوٹے مقدمات کی بھرمار ہے۔ کاروباری شخصیات ایسے مقدمات اپنے کاروباری حریفوں کیخلاف جھوٹی گواہیوں پر درج کروا رہی ہیں اور بغیر ثبوتوں کے مقدمات درج کرکے کاروباری شخصیات کو بلیک میل کرکے رقوم نکلوانے کا سلسلہ پنجاب بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق زیر دفعہ 406پی پی سی کے 95فیصد مقدمات جھوٹے درج کئے جا رہے ہیں جبکہ بوگس چیک کے مقدمات میں بھی بوگس ایف آئی آرز اور چیک کو غلط جگہ استعمال کرنے کا سلسلہ عام ہے۔ کاروباری تنازعات کے حل کیلئے استعمال کئے جانے پر پولیس اہلکار ”اپنا کمیشن“ ایڈوانس وصول کرکے کارروائی عمل میں لاتے ہیں۔ کاروباری حلقوں نے پولیس کو کاروباری مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب‘ آئی جی پنجاب‘ اور دیگر اعلیٰ پولیس و انتظامی افسران سے مطالبہ کیا ہے اس سلسلے کی روک تھام کیلئے ترجیحی اقدامات عمل میں لائے جائیں۔

Related posts