پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کی موجودگی کا انکشاف


لاہور(نیوزلائن) پنجاب کے 13 تعلیمی اداروں میں 261 کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جو طلبہ کو دہشت گردی اور فرقہ واریت میں ملوث کرنے کیلئے سوشل میڈیا فیس بک، ٹویٹر، لنک ڈاﺅن، واٹس اپ، ٹینگو سکائپ اور انسٹاگرام کے ذریعے برین واشنگ کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وزارت داخلہ کو اطلاع دی ہے کہ مختلف کالعدم تنظیمیں داعش، تحریک طالبان، تحریک طالبان پنجاب، لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوان پنجاب کے متعدد کالجز اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو سوشل میڈیا اور مختلف طریقوں سے شکار بنا رہے ہیں تا کہ ان کو گروپ میں شامل کیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض طلبہ کی مالی مدد بھی کی جا رہی ہے۔ طلبہ کو انٹر نیٹ سے منتخب کر کے چار ماہ تک فالو کیا جاتا ہے۔ متعدد کالجز اور یونیورسٹیوں میں تصادم کروانے میں بھی اسی تنظیم کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بیرون ممالک کے خفیہ ادارے فنڈز جاری کر رہے ہیں اور نیٹ ورک کو مزید وسیع کرنے کیلئے مختلف قیمتی اشیا لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور کمپیوٹرز مہیا کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے چند ماہ قبل حیدر آباد کی ایک طالبہ نورین خان لغاری کی دو ماہ تک برین واشنگ کی اور اسے خود کش حملہ کرنے کیلئے بھی تیار کیا۔ اسے انٹرنیٹ کے ذریعے جہادی تقاریر سنائی گئیں اور دیگر طالبات کو بھی ٹریننگ دی گئی۔ اس کے بعد مردان میں طلبہ کو ورغلا کر مشال خان کو قتل کروانے میں بھی اسی تنظیم کا ہاتھ بتایا جاتا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر سو سے زائد ایسی ویب سائٹس موجود ہیں جسے بیرون ملک کے ماہرین ہیکروں نے تیار کیا ہے۔ ان ویب سائٹس کو کھولنے کیلئے مختلف ناموں کے کوڈز ہیں۔ ان میں شمس، جنت، نیلا آسمان، کالا سمندر، پڑوسی، سبز باغ، شعلہ اور بغاوت شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروہ کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے اور خفیہ اداروں نے اس نیٹ ورک کی کھوج لگانے کیلئے سپیشل ٹیم تشکیل دی ہے جس میں ماہرین ہیکرز کے علاوہ سائبر کرائم سے متعلق افسران بھی موجود ہیں۔

Related posts