حکومت نے تمام نجی بینکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز تحلیل کر دئیے

اسلام آباد(حامد یٰسین)پاکستان کے تمام نجی بینکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز حکومت نے فارغ کر دئیے۔بینکنگ کے شعبہ میں بحران پیدا ہو گیا۔ کئی بینکوں میں کام ٹھپ‘ لوگوں کی رقوم کی ترسیل متاثر ہونے اور رقوم مرنے کے خدشات مارکیٹ میں گردش کرنے لگے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت کے اہم رہنما اسحاق ڈار نے ایک ایس آر او جاری کیا ہے جس کے ان ڈائریکٹ اثرات سے ملک کے تمام نجی بینکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرزفارغ ہو گئے ہیں۔ ایس آر او میں براہ راست تو کسی بینک یا بورڈ یا شخصیت کا نام نہیں لکھا گیا صرف بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بننے کی مدت کو ”ہٹ“ کیا گیا ہے مگر اس ایک فیصلہ سے ایچ بی ایل‘ یو بی ایل‘ اے بی ایل‘ ایم سی بی‘ سمیت متعدد دیگر بینکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز تحلیل ہو گئے ہیں اور ایک ہی رات میں اچانک بیٹھے بیٹھے اتنا بڑا اقدام اٹھائے جانے سے بینکنگ سیکٹر میں اعلیٰ انتظامی سطح پر شدید انتظامی بحران نے جنم لیا ہے۔بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اچانک تحلیل سے بینکوں میں اندرونی طور پر بحران پیدا ہوا جبکہ سٹیٹ بینک سے معاملات طے کرنے اور بیرون ملک آپریشن چلانے میں بھی بینکوں کو دشواری کا سامنا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اس اقدام سے بینکنگ سیکٹر کا پورا انتظامی نظام دھڑام سے نیچے آگیا ہے جبکہ سٹاک مارکیٹ میں بھی ان کے شیئرز کی قیمتیں گر گئی ہیں۔بااثر نجی بینک مالکان اس ایس آر او کو منسوخ کروانے اور اپنی ”حکومت“ بچانے کیلئے اعلیٰ سطح پر کوشش کر رہے ہیں۔حکومتی حلقوں کے مطابق نجی بینکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز قانون کے مطابق تشکیل نہیں دئیے گئے تھے۔ وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی ہے۔ قانون سے ہٹ کر کوئی اقدام آئندہ بھی ہوا تو اس کا خاتمہ کیا جائے گا۔ بینک اپنے بورڈز کو قانون کے مطابق بنانے کے پابند ہیں ایسا نہیں کریں گے تو انہیں کوئی رعائت نہیں دی جائے گی۔

Related posts