زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے تاریخ کا انوکھا اور شرمناک ریکارڈ قائم کردیا

فیصل آباد(ایچ وائی احمد)زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے دنیا کی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ قائم کردیا ہے جو شائد ہی کوئی توڑ سکے۔ اس ریکارڈ کو قائم کرنے میں یونیورسٹی حکام سے زیادہ پنجاب کی نااہل اورقانون سے لاعلم بیوروکریسی نے ادا کیا ہے۔ اس شرمناک ریکارڈ کو قائم کرنے میں بیوروکریسی کو خصوصی معاونت وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے فراہم کی۔ نیوزلائن کے مطابق زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا ہے کہ اس میں بیک وقت دو وائس چانسلر تعینات ہیں اور دونوں ہی اصلی اور مستقل وائس چانسلر نہیں ہیں بلکہ دونوں کو قائمقام وائس چانسلر ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں میں سے کسی کو بھی مستقل وائس چانسلر کا عہدہ نہیں مل سکے گا۔ریکارڈ کے مطابق ملکی تاریخ میں انتہائی اہمیت کی تحقیق اور تدریس کے حوالے سے منفرد مقام رکھنے والی جامعہ‘زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں دوسرے ٹنیور کے بعد سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رانا اقراراحمد خاں کوقائمقام وائس چانسلر تعینات کردیا گیا۔ ڈاکٹر اقرار کی قائمقام تعیناتی ایسے وقت میں عمل میں آئی جب ان کی مدت مکمل ہونے کے بعد وہ یونیورسٹی سے جانے کو تیار بیٹھے تھے اور امکان یہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کسی دوسری شخصیت کو قائمقام وی سی کا عہدہ مل جائے گا ایسے میں رات گئے پنجاب کی بیوروکریسی نے ڈاکٹر اقرار کا قائمقام وائس چانسلر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ رانا اقرار کی قائمقام وی سی تعیناتی میں وزیرقانون رانا ثناء اللہ نے خصوصی کردار ادا کیا۔ رانا اقرار یونیورسٹی میں معمول کے کاموں میں مگن تھے کہ چند ہفتوں کے وقفے سے اچانک ڈاکٹر ظفر اقبال کا بطور پرو وائس چانسلر تعیناتی کا نوٹیفکیشن یونیورسٹی پہنچ گیا۔ اور کہا گیا کہ وہ نئے مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی تک جامعہ کے انتظامی امور چلائیں گے۔ڈاکٹر ظفر کی تعیناتی بھی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی خصوصی نظر کرم سے ہوئی ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی پنجاب کی بدحواس بیوروکریسی نے رانا اقرار کا قائمقام وی سی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی معطل نہیں کیا۔ یونیورسٹی حکام نے اس حوالے سے لاہور رابطہ کیا تو سامنے آیا کہ ابھی تک ڈاکٹر اقرار قائمقام وی سی ہیں۔ ڈاکٹر ظفر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہیں بتایا گیا کہ ان کو بھی پرووائس چانسلر بنایا گیا ہے جو کہ ایک طرح سے قائمقام وی سی ہی ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق عملی طور پر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں 2وائس چانسلر ہیں اور دونوں ہی قائمقام وی سی ہیں۔ یونیورسٹی حکام کیلئے کسی ایک کے زیرحکم چلنا مشکل ہو چکا ہے۔ڈاکٹر اقرار وائس چانسلر کے آفس میں براجمان ہیں تو ڈاکٹر ظفر وی سی کا آفس خالی کروا کر انہیں دینے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔انتظامی امور میں بھی تقسیم ہے ڈاکٹر اقرار ماضی کی ہی طرح تمام معاملات دیکھ رہے ہیں مگر ڈاکٹر ظفر نے ہر فائل انہیں پیش کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ اختیارات کی جنگ ہے کو جو شائد ہی ختم ہوسکے چہ جائیکہ پنجاب حکومت کی بد حواس بیوروکریسی یا وزیر قانون صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے کسی ایک کا نوٹیفکیشن معطل نہیں کرتے۔یونیورسٹی حکام ایک طرف تو اپنی یونیورسٹی کو بیک وقت دو وائس چانسلر کی تعیناتی کا منفرد اعزاز ملنے پر مسرور اور شاداں ہیں تو دوسری جانب ایسے شرمناک ریکارڈ کیساتھ یونیورسٹی کا نام نتھی ہونے پر منہ چھپائے پھر رہے ہیں اور اسے اعزاز سے زیادہ شرمندگی کا باعث سمجھ رہے ہیں۔

Related posts