دوسروں کو نصیحت خود ۔۔۔۔۔؟پاکستانی میڈیا میں جعلی ڈگری ہولڈرز کی بھرمار

لاہور(نیوزلائن)ملک و قوم کو صبح و شام ایمانداری اور دیانتداری کا درس دینے والا میڈیا خود جعلی ڈگری ہولڈرز کا محافظ بن گیا۔شرم و حیا کی تمام حدیں پھلانگ کر پاکستانی ٹی وی چینل اور اخبارات میں دھوکے باز جعلی ڈگری کی بہت بڑی تعداد چھپی بیٹھی ہے۔ ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ سب سے زیادہ جعلی ڈگری ہولڈرز میڈیا میں ہی چھپے بیٹھے ہیں اور عالم فاضل بن کر قوم کا مستقبل سنوارنے کی کوشش میں مگن ہیں۔نیوزلائن کے مطابق گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی سب سے زیادہ جعلی ڈگریاں میڈیا میں ہی استعمال کی جارہی ہیں۔پرانے جغادری اپنی کوالیفکیشن چھپانے کیلئے جعلی ڈگریوں کا سہارا لے کر سیڑھیاں چڑھنے سعی کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق لاہور جعلی ڈگری ہولڈرز میڈیا پرسنز کی سب سے بڑی منڈی ہے۔تاہم فیصل آباد‘ ملتان اور پشاور میں بھی جعلی ڈگری ہولڈرز صحافیوں کی بہت بڑی تعداد قوم کو دھوکہ دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ جیو نیوز‘ روزنامہ جنگ‘ دنیا‘ 92نیوز‘ ایکسپریس نیوز‘ روزنامہ ایکسپریس‘ سماء ٹی وی‘ بول ٹی وی‘نیو ٹی وی‘ روزنامہ نئی بات‘ خبریں‘ نوائے وقت ‘ اے آر وائی نیوز‘ ڈان نیوزسمیت تمام چھوٹے بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز میں جعلی ڈگری ہولڈرز موجود ہیں اور اہم پوسٹوں پر تعینات ہیں ۔ یہ دھوکے باز پالیسی سازی سمیت میڈیا کے تمام شعبوں میں اپنے پنجے جمائے ہوئے ہیں ۔ دھوکے باز جعلی ڈگری ہولڈرز صبح شام قوم کو نصیحتیں کرنے اور دیانتداری کا درس دینے میں بھی کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں ۔ان دھوکے باز جعلی ڈگری ہولڈرزاور انہیں تحفظ دینے والے میڈیا مالکان کیلئے خواجہ آصف کے قومی اسمبلی میں کہے ہوئے یہ الفاظ ہی کہے جا سکتے ہیں۔۔کوئی شرم ہوتی ہے۔۔کوئی حیا ہوتی ہے

Related posts