حکومتی دعوے ٹھس:پنجاب میں پولیس کلچر تبدیل نہ ہوسکا‘ جھوٹے مقدمات کی بھرمار

لاہور(آر این شہزاد)وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ دعوے تو بہت لمبے چوڑے کرتے ہیں مگر عملی طور پنجاب پولیس کا کلچر تبدیل کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ پنجاب بھر میں جھوٹے مقدمات کی بھرمار ہے اورپنجاب پولیس کا قبلہ درست ہونے میں نہیں آرہا۔ نیوزلائن کے مطابق پنجاب پولیس کی طرف سے پانچ سالوں (سال 2012تاسال 2016)میں ’’امانت میں خیانت‘‘کی دفعات (دفعہ 405‘406‘408پی پی سی) کے تحت درج کئے گئے مقدمات میں سے99.9فیصد مقدمات جھوٹے اور بوگس ثابت ہوچکے ہیں ۔پولیس کا اپنا ریکارڈ اور عدالتی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف اس ایک دفعہ کے تحت درج پانچ سالوں کی ایف آئی آرز میں سے صرف 19سچی تھیں جبکہ باقی درج ہزاروں ایف آئی آرز جھوٹی اور بے بنیاد ثابت ہوئیں۔ صرف زیر دفعہ 406پی پی سی کے تحت پولیس نے پانچ ہزار سے زائد اشتہاری قرار دلوائے ۔ ایف آئی آر جھوٹی اور بے بنیاد ثابت ہونے کے باوجود یہ اشتہاری اشتہاری ہی رہے۔ جھوٹے مقدمات میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے پولیس نے حوالات اور جیلوں کی کوٹھریوں میں پہنچایا ۔ ذرائع کے مطابق اس دفعہ کے تحت درج تمام ایف آئی آرز بااثر افراد کی طرف سے درج کرائی گئیں اور 99فیصد ایف آئی آرز کے اندراج میں متعلقہ تھانیداروں نے قواعدوضوابط اور ایف آئی آر کے اندراج کے طریقہ کار کو نظرانداز کیا۔اتنی بڑی تعداد میں جھوٹی ایف آئی آرز کے اندراج سے دس سال سے پنجاب کے اقتدار پر براجمان وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان کے پولیس کلچر میں تبدیلی ‘ قانون کی حکمرانی اور پولیس کو مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے سے روکنے کے اعلانات اور دعووں کا پول کھل گیا ہے۔

Related posts