جمشید دستی کی گرفتاری پر قومی اسمبلی میں شدید احتجاج، پروڈکشن آرڈر جاری

اسلام آباد(نیوزلائن)جمشیددستی کی گرفتاری پر اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا حکومتی اوراپوزیشن ارکان میں تکرار بھی ہوئی۔ ہنگامے ،شور شرابےاور ہلڑ بازی میں ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا۔ سپیکر نے جمشید دستی کا پروڈکشن آرڈر جاری کردیا۔ نیوزلائن کےمطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہوا ۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے جمشید دستی کی گرفتاری کے معاملے پر بات کر رہے تھے کہ عامرڈوگر نے ایوان میں پلے کارڈ لہرا دیا۔ جس پر لکھا تھا شرم کرو حیا کرو اس دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں تکرار شروع ہوگئی ۔ کیپٹن صفدر اور شیریں مزاری بنچز پر کھڑے ہوگئے۔ دونوں اراکین کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی۔ جس پرسپیکر نے دونوں اراکین کو خاموش رہنے کی ہدایت کی۔ ہلڑبازی اور ہنگامہ آرائی کے دوران ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔ خورشیدشاہ کا کہنا تھا کہ جو بات آسان ہونی چاہیے تھی وہ مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ہتھکڑیاں کھلنے چاہیے تھی مگر لگا دی گئیں ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جمشید دستی کو راتوں رات سینٹرل جیل بھجوایا گیا۔ انھیں دہشتگردوں کی کال کوٹھڑی میں رکھا گیا ۔کسی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ وکلا کو وکالت نامے پر دستخط نہیں کرنے دیئے جا رہے۔ انھوں نے کہا کہ قتل کےقیدیوں سے ملنے کی اجازت ہے مگر جمشید دستی سے نہیں۔ سپیکر ایازصادق نے ایوان کو بتایا کہ جمشید دستی کے متعلق درخواست موصول ہوگئی ہے۔ان کے پروڈکشن آڈرز جاری کر دیئے ہیں ۔ اس کے بعد اپوزیشن ایوان سے واک آئوٹ کرگئی اجلاس کل سہ پہر ساڑھے تین بجے تک ملتوی کردیا گیا.

Related posts