پنجاب پولیس امیر زادوں اور افسر شاہی کی سکیورٹی گارڈ‘ اصل فرض نظر انداز

لاہور(آر این شہزاد)پنجاب پولیس اپنے اصل فرض ’’عوام کا تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی‘‘ کو مکمل طور پر فراموش کر چکی اور صرف وی آئی پیز‘ امیر زادوں‘ سیاستدانوں اور افسر شاہی کی سکیورٹی گارڈ بن کر اپنے اوپر اٹھنے والے اربوں روپے کے بجٹ کو ضائع کررہی ہے۔ سٹیٹس کو کے محافظ حکمران‘ اپوزیشن‘ اور افسر شاہی پولیس میں اصلاح احوال کے مواقع میسر ہونے کے باوجود حالت کی بہتری کیلئے اقدامات کرنے پر تیار نہیں۔نیوزلائن کے مطابق پنجاب پولیس کے 50فیصد سے زائد اہلکار نام نہاد وی آئی پیز ‘ سکیورٹی خدشات رکھنے والوں‘ سیاسی شخصیات ‘ حکمرانوں‘ اپوزیشن‘ اور افسر شاہی کی ذاتی محافظت کیلئے’’ سکیورٹی گارڈ ‘‘کے طور پر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔اتنی بڑی تعداد میں اہلکاروں کے سکیورٹی خدمات میں تعینات ہونے سے پولیس اپنے اصل فرض’’عوام کی حفاظت‘ جرائم کا خاتمہ‘ جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی امن عامہ کا نفاذ‘‘ یقینی بنانے کیلئے کام ہی نہیں کر پاتی۔پولیس کو سکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی سے ہٹانے کیلئے سیاستدان راضی ہیں اور نہ افسر شاہی عملی اقدامات کرتی نظر آتی ہے۔ خود اعلیٰ پولیس افسران اپنے تربیت یافتہ پولیس جوانوں سے معمولی سکیورٹی گارڈ کا کام لینا بند کرنے کے حامی نہیں ہیں اور ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘پالیسی کے تحت حکمران ٹولے کی خوشامد میں لگے رہتے ہیں۔افسر شاہی چونکہ خود پولیس اہلکاروں کو سکیورٹی گارڈ بنا کر ان کی افادیت ختم کرنے کی سازش میں براہ راست ملوث ہے اس لئے وہ ’’سکیورٹی گارڈ ‘‘ بنائے رکھنے کے سوا پولیس جوانوں کے کسی دوسرے کام کے حامی ہی نہیں ہوتے اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کو ہی سب سے بہتر پالیسی قرار دے کر اس پر عمل پیرا ہے۔

Related posts