دو ٹکے کی تحقیق

پی ٹی آئی اس حکمت عملی پر خراج تحسین کی مستحق ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران اس نے سیاست اور الزام تراشی کے سارے کھیل کو اس ہوشیاری کے ساتھ مسلم لیگ (ن) اور کسی حد تک پیپلز پارٹی کے کورٹ میں رکھا کہ خود اس کی پارٹی کی اندرونی حالت اورخیبر پختونخوا کی ناکام ترین حکومت کی طرف کسی کی توجہ کو جانے ہی نہیں دیا ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی اندرونی صورت حال دنیا کی نظروں کے سامنے آچکی ہوتی تو آج پی ٹی آئی کے ترجمان کسی کے سامنے آنے کی جرات ہی نہ کرسکتے ۔ اسی طرح اگر میڈیا خیبر پختونخوا کی حکومت میں ہونے والی بدعنوانیوں ، اقربا پروریوں اور احتساب کے نام پر تاریخ کے بدترین ڈراموں کو سامنے لاچکا ہوتا تو اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی مخالف پارٹیوں کو پنجاب میں انتخابی مہم چلانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی ۔ مثلاً خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک نے عمران خان کے ایما پر اپنے نامزد کردہ احتساب کمشنر کی چھٹی کرادی ۔ دو سال ہونے کو ہیں اور نیا ڈی جی مقرر نہیں کیاجارہا ۔ وزیراعلیٰ اپنے بنائے ہوئے قانون کے مطابق بھی نئے ڈی جی کو میرٹ پر مقرر کرنے پر آمادہ نہیں ۔وزیراعلیٰ نے اپنے ایک اور منظور نظر شخص کو ڈی جی احتساب بنانے کے لئے اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کروایا ۔ ڈان نیوز کے اسماعیل خان اور میں نے یہ ڈرامہ بازی آشکار ا کرلی تو انصاف کی علمبردار حکومت نے ایک شخص کی خاطر قانون میں تبدیلی کا ارادہ ترک کرکے اعلان کیا کہ وہ ہائی کورٹ سے نئے احتساب کمشنر کا تقرر کروائیں گے ۔ کئی ماہ گزر گئے لیکن ابھی تک وزیراعلیٰ قائمقام ڈی جی جو ان کا خاص بندہ ہے ،سے کام چلااور مخالفین کو ہراساں کررہے ہیں ۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اپنے پی ایس او زیب اللہ خان جو ان کے ساتھ پولیس بھرتیوں کے کیس میں ملوث تھے کو دہرا چارج دے کر اینٹی کرپشن کا ڈی جی بنا دیا ہے ۔ یہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ رولز کے خلاف ایک پولیس افسر کو ڈی جی اینٹی کرپشن لگا دیا گیا۔ صحت کا حال دیکھنا ہو تو ینگ ڈاکٹروں پراسپتال کے اندر پولیس لاٹھی چارج کی ویڈیو ملاحظہ کیجئے ۔ خان صاحب نے اپنے ایک عزیز کو صحت کے محکمے میں پالیسی بنانے کا اختیار دے رکھا ہے جو امریکہ میں رہتے اور مہینے میں صرف دو دن کے لئے حکمرانی کا مزہ لینے پشاورآجاتے ہیں ۔ پولیس کا حال دیکھنا ہو تو ڈی ایس پی کی موجودگی میں مشال خان کے بہیمانہ قتل کی مثال دیکھ لیجئے اور پھر پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت کا یہ نمونہ ملاحظہ کیجئے کہ سب ملزم پکڑے گئے لیکن جس کا پی ٹی آئی سے تعلق تھا وہ ابھی تک ہاتھ نہیں آیا۔ یونیورسٹیوں کی تباہی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ جب مشال قتل ہورہا تھا تو مردان یونیورسٹی سمیت نویونیورسٹیاں پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست کی وجہ سے وائس چانسلروں کے بغیرچل رہی تھیں۔ پی ٹی آئی کے ایک ایم این اے کی ایک دن میں تین پرچے دینے کے معاملے میں انکوائری کرنے کے جرم میں پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ہٹانے کے لئے تو صوبائی حکومت نے گورنر کو سمری ارسال کردی لیکن عبدالولی خان یونیورسٹی میں بے قاعدگیوں اور بدانتظامیوں پر اس کے وائس چانسلر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ مرکز میں تو انکوائریاں بڑی کروائی جارہی ہیں اور پی ٹی آئی کے ترجمان ماڈل ٹائون انکوائری کا بہت ذکر کررہے ہیں لیکن خود پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بنوں جیل توڑنے کی انکوائری رپورٹ سامنے لاسکی نہ آرمی پبلک اسکول واقعہ کی انکوائری کرواسکی ، نہ اپنے ایم پی اے کے قتل کے مجرم سامنے لاسکی اور نہ صوبائی وزیر سردار اسراراللہ گنڈا پوری کے قتل کی تحقیقات ہوسکیں ۔ یہ تماشہ پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا کہ پرویز خٹک کابینہ کے وزیر اسراراللہ گنڈاپور جو دھماکے میں مارے گئے ،کے بھائی اکرام اللہ گنڈاپور جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنے اور زراعت کے وزیر ہیں ، اپنے بھائی کے قتل کی سازش میں اپنے ساتھی وزیر کی طرف انگلیاں اٹھارہے ہیں ۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اپنے بھائی کےقتل کی تحقیقات کے لئے اپنی حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کے اس وزیر نے نوازشریف کابینہ کے وزیر چوہدری نثار علی خان کو خط لکھا ہے کہ وہ ان کے بھائی کے قتل کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنائے ۔ یہ چند مثالیں ہیں بدلے ہوئے پاکستان کی ۔ اس حکومت کی ساری توجہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں مہم پر مرکوز ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں پرویز خٹک کو پانچ مرتبہ اپنا وزیراطلاعات تبدیل کرنا پڑا ۔ اس مد میں اتنے فنڈز خرچ کئے جارہے ہیں کہ بنی گالہ میں براجماں افتخار درانی جیسے لوگ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہے ہیں ۔ اس پروپیگنڈے کی وجہ سے شاید پنجاب کے لوگ پی ٹی آئی کی طرف دیکھنے لگے ہیں اور اللہ کرے کہ وہ آزمالیں لیکن خود پختونخوا کے لوگ کتنے پچھتارہے ہیں ، اس کا اندازہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے نتیجے سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس میں دو درجن سے زائد لوگ مروانے کے باوجود پی ٹی آئی عام انتخابات کی طرح کامیابی حاصل نہ کرسکی ۔ ان انتخابات میں ضیاء اللہ آفریدی اور پرویز خٹک کے علاوہ کوئی بھی ایم این اے یا وزیر اپنے یونین کونسل نہیں جتواسکا۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور انشاء اللہ وقت آنے پر ایک ایک چیز ثابت ہوجائے گی اور الحمد للہ جن جن باتوں پر مجھ جیسوں کو گالیاں پڑی ہیں ، اب دھیرے دھیرے ثابت ہورہی ہیں ۔اپنے دائیں جانب فردوس عاشق اعوان اور بائیں جانب نذر محمد گوندل کو بٹھا کر خان صاحب نے بڑی حد تک اپنی اور اپنی جماعت کی حقیقت عیاں کردی ۔ ایک اور تازہ ترین مثال خیبر پختونخوا میں ہائیڈل بجلی پیدا کرنے والے ادارے (پیڈو) سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے ۔ ہوا یوں کہ اقتدار ملنے کے بعد جب خیبرپختونخوا کے مختلف محکموں کے ٹھیکے جب بنی گالہ میں براجماں پنجاب اور سندھ کے لیڈروں کو الاٹ کئے جارہے تھے تو پیڈو کا ادارہ محترم اسد عمر صاحب کے حصے میں آیا چنانچہ انہوں نے وزیراعلیٰ سے قواعد کی خلاف ورزی کروا کر اینگرو کے دور کے اپنے ساتھی اکبر ایوب کو اس کا سربراہ بنوادیا۔ میرے پاس سارے شواہد آئے توانصاف کے نام پر صوبے کے ساتھ اس بے انصافی کا تذکرہ 8اگست 2015کے کالم میں کردیا۔ کیونکہ اس شخص کا ہائیڈل جنریشن کے میدان میں کوئی تجربہ نہیں تھا اور مجھے یقین تھا کہ بھاری معاوضہ لینے کے باوجودوہ اس ادارے کو تباہ کردیں گے۔لیکن بجائے اس کے کہ اصلاح کی جاتی ، اسد عمر صاحب نے میرے خلاف مہم خود بھی شروع کی اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے مجاہدین کو بھی میرے خلاف لگا دیا۔ میں ان کو اپنے ٹی وی پروگرام میں بلاتا رہا لیکن وہاں آنا شاید انہوں نے اپنی شان کے منافی سمجھا اور ایک ویب ٹی وی پر بیٹھ کر میرے خلاف ایک گھنٹے کا انٹرویو ریکارڈ کرایا۔ اس میں انہوںنے اکبر ایوب کی تعیناتی کو خیبر پختونخوا کے عوام پر احسان عظیم ثابت کرانے کی کوشش کی اور بار بار مجھے طنز و تشنیع کا نشانہ اس فقرے کے ساتھ بناتے رہے کہ ’’یارسلیم صافی ۔ اتنے بڑے تم صحافی ہو ۔ کم از کم دو ٹکے کی تو تحقیق کرلیتے‘‘ ۔ بہر حال ان کے پاس طاقت تھی چنانچہ ان کے اکبرایوب پیڈو کے مختار بنے رہے ۔ کچھ عرصہ بعد اس کے بورڈ کے چیئرمین شکیل درانی نے بھی ان بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاجاًاستعفیٰ دے دیا لیکن چونکہ اکبر ایوب کی سفارش مضبوط تھی اس لئے وہ براجماں رہے ۔ انہوں نے اپنے ماتحت مزید اٹھارہ افراد کوپیڈو میں قواعد کے خلاف بھرتی کیا اور ان بھرتیوں کو صوبائی انسپکشن ٹیم غیرقانونی قرار دے چکی (رپورٹ میرے پاس ہے ) ۔ بالآخر محکمے کے ایک اکائونٹنٹ نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ الحمد للہ پشاور ہائی کورٹ نے 7 جون 2017 کو اپنے فیصلے میں میری گزارشات پر حرف بحرف مہرتصدیق ثبت کرکے اکبر ایوب کی تقرری کو غیرقانونی قرار دیا ، لیکن نقصان یہ ہوا کہ اس غریب صوبے کا یہ امیر ادارہ گزشتہ چار سالوں میں چند میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہ کرسکا۔ اے این پی دور کے شروع کردہ دو پروجیکٹ مشکل سے مکمل ہوئے اور بس۔ اسد عمر صاحب تک یقینا یہ فیصلہ پہنچ گیا ہوگا کیونکہ یہ پشاور ہائی کورٹ کی تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے کہ جس میں ان کا ذکر بھی موجود ہے ۔
بقول اسد عمر صاحب ، میری تحقیق یقینا دو ٹکے کی بھی نہیں تھی لیکن الحمد للہ اس دو ٹکے کی تحقیق کو صوبے کی سب سے بڑی اور باوقار عدالت نے اپنے فیصلے میں حرف بحرف درست ثابت کیا جبکہ ان کے اینگرو کے دنوں کے دوست کوگھر بھیج دیا۔ یقینا اپنے کئے پر وہ معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ ان کے ہاں ایسا کرنے کی روایت نہیں ۔ میں بس اس موقع پر ان کی خدمت میں انہی کے الفاظ کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسد عمرصاحب ۔ اتنے بڑے آپ سیاسی لیڈر ہیں ۔ کچھ تو سوچا کریں ۔ خیبرپختونخوا کا ہر رہنے والا آپ کے ایم این ایز اور وزیروں کی طرح بنی گالہ کا غلام اور آپ کا تابعدار نہیں کہ جو آپ جیسے لوگوں کے خوف سے یا پھر آپ کے کارندوں کی گالیوں کے ڈر سے دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرتا پھرے ۔وہاں ایم ایم اے کی حکومت تھی تو یہی رویہ تھا۔ وہاں اے این پی کی حکومت تھی اور پرویز خٹک اس میں وزیر تھے تو بھی یہی رویہ ہے ۔ اب آپ لوگوں کی حکومت ہے تو بھی یہی رویہ ہے ۔ آپ لوگوں کے رول اور پارٹیاں بدلتی رہیں گی لیکن میرا رول یہی رہے گا۔ سندھ ، پنجاب اور مرکز کی حکومتوں کی خبر لینے والے تو بہت ہیں ۔ آپ کی حکومت کی خبر لینے والا صرف میں رہ گیا ہوں اور وہ بھی آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔ اسد عمر صاحب آپ دونوں بھائی اتنے بڑے سیاستدان ہیں کہ ایک بھائی نوازشریف کا دست راست اور دوسرا عمران خان کا رازدان بن گئے ہیں۔ایک بھائی نے سندھ کی گورنری لے لی اور دوسرے اسلام آباد سے ایم این اے بن گئے ۔ لیکن ہم جیسے دو ٹکے کے صحافیوں کی دو ٹکے کی تحقیق پر مبنی تنقید بھی آپ سے برداشت نہیں ہوتی۔کچھ تو خدا کا خوف کریں۔

سلیم صافی

 

Related posts