وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خاں کیخلاف قانون کا شکنجہ تیار


فیصل آباد(نیوزلائن)صوبائی وزی قانون رانا ثناء اللہ خاں کیخلاف بعض طاقتیں متحرک ہو گئی ہیں اور انہیں قانونی و سیاسی جال میں جکڑ کر سیاست سے فارغ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ دس برس سے صوبائی وزارت قانون پر براجمان فیصل آباد کے سیاسی رہنما متعدد کیس میں پہلے ہی ملوث ہیں انہیں انہی پرانے کیسوں میں الجھانے کا منصوبہ تیار ہے جبکہ ان کے خلاف سیاسی حالات بھی ایسے کئے جارہے ہیں کہ ان کیلئے سیاست میں رہنا ناممکن حد تک مشکل ہو جائے گا۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد سے مسلم لیگ ن کے سرگرم رہنما رانا ثنا ء اللہ خاں کو سیاست سے مکمل طور پر آؤٹ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ رانا ثناء اللہ کو قانونی معاملات میں الجھانے کے علاوہ سیاسی طور پر بھی ان کے خلاف حالات بنانے کیلئے کئی خفیہ طاقتیں ‘ میڈیا کا ایک متحرک حصہ اور پی ایم ایل این کے ہی متعدد رہنما متحرک ہیں۔رانا ثناء اللہ پر لاہور ماڈل ٹاؤن میں قتل وغارت کا الزم ہے ہی اور اس کیس کو بھی جسٹس نجفی کی رپورٹ عام کرکے رانا ثناء اللہ کیخلاف استعمال کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس کیس میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف تو شائد بچ جائیں مگر رپورٹ عام کئے جانے اور کیس ری اوپن ہونے سے رانا ثناء اللہ کا بچنا شائد ممکن نہ ہو سکے۔فیصل آباد میں پولیس ’’انسپکٹر ٹارگٹ کلنگ گینگ ‘‘ میں بھی رانا ثناء اللہ کا نام مسلسل لیا جاتا رہا ہے ۔ اس گینگ کے گرفتار ملزمان رانا ثناء اللہ کا نام بھی لے چکے ہیں اور ان کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔سمن آباد کے دو بھائیوں کے قتل کا الزام بھی رانا ثناء اللہ پر لگ چکا ہے اور دونوں کے لواحقین بھی رانا ثناء اللہ کا نام لیتے ہیں ۔ اس کیس میں بھی وزیر قانون ہونے کی وجہ سے پولیس ان سے کچھ نہ کر سکی مگر وقت کا پہیہ الٹا گھومنے پر یہی کیس ان کیخلا ف استعمال ہو سکتا ہے۔متعدد افراد کو پولیس مقابلوں میں مروانے کا الزام بھی رانا ثناء اللہ پر لگ چکا ہے ۔ ایک کیس میں سمن آباد کے ہی تین بھائیوں کو پولیس مقابلے میں مروانے کے معاملے میں عدالت نے بھی پولیس کورانا ثناء اللہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا تھا ۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کی بجائے مدعیہ کو خوار کرتی رہی اسی دوران پراسرار حالات میں مقدمہ کی پیروی کرنے والی مقتولین کی والدہ نے خاموشی اختیار کر لی مگر عدالتی احکامات ابھی تک موجود ہیں اور ان کے خلاف کسی جگہ قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔مسلم لیگ ن کے رہنما سابق میئر چوہدری شیر علی کھلے عام رانا ثناء اللہ کے 20افراد کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام دہراتے رہتے ہیں۔چند سال قبل فیصل آباد پریس کلب پرپولیس کی مدد سے ایک دھڑے کے قبضے کے کیس میں بھی رانا ثناء اللہ کا نام کھلے عام لیا جاتا رہا ہے۔پریس کلب میں دوگھنٹے تک ہونیوالی فائرنگ اور قبضے کامعاملہ ابھی تک پولیس کی فائلوں میں زندہ اور عدالتوں میں متحرک ہے ۔فیصل آباد کے ایک سابق سی پی او بھی رانا ثنا ء اللہ کی کریمنل سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی تصدیق کر چکے اور گرفتار ملزموں سے اپنی نگرانی میں تحقیقات کروا کر رانا ثنا ء اللہ کیخلاف فائل بنوا چکے ہیں مگر پھر اچانک ان کا تبادلہ کروا دیا گیا اور نئے آنیوالوں نے اس معاملے کو چھیڑنے سے گریز کیا مگر فائل ابھی بھی پولیس ریکارڈ میں موجود اور کسی بھی وقت دھماکہ خیز نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ ماضی میں رانا ثناء اللہ ایک کالعدم تنظیم کے رہنماؤں کیساتھ متحرک رہے ہیں اور اس تنظیم کے ان رہنماؤں کیساتھ ان کے اب بھی روابط کا چرچا زبان زد عام ہے۔ کالعدم تنظیم کے مخالف ایک دھڑے کے گرفتار رہنماؤں کے رحیم یار خاں میں پولیس مقابلے میں مارے میں رانا ثناء اللہ کا نام سننے میں آتا رہا ہے۔قادیانیوں کے حق میں بیان دے کر راناثناء اللہ ملک کے اکثریتی مذہبی دھڑے کو بھی اپنے خلاف کر چکے ہیں ۔لاہور میں تحریک لبیک کا دھرنا رانا ثنا ء اللہ کے اسی بیان کے تناظر میں ہے۔ فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کا ایک متحرک دھڑا رانا ثناء اللہ کیخلاف ہے اور ان کے خلاف ہر سطح پر جانے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔کالعدم تنظیم کے رہنماؤں کیساتھ رانا ثناء اللہ کے تعلقات کی وجہ سے جھنگ میں مسلم لیگ ن کے ایم این اے شیخ اکرم اور وقاص اکرم بھی رانا ثنا ء اللہ کیخلاف ہیں۔جھنگ اور سرگودھا کے 12سے 15ارکان اسمبلی کا دھڑا قادیانیوں کے ایشو پر رانا ثنا ء اللہ کیخلاف محاذ بنائے ہوئے ہے۔ذرائع کے مطابق حساس ادارے بھی رانا ثناء اللہ کی سرگرمیوں کی وجہ سے ان کے حق میں نہیں ہیں جبکہ کئی طاقتیں ان معاملات کی وجہ سے ان کیخلاف سرگرم ہیں ۔ ان حلقوں کی طرف سے کوششیں ہو رہی ہیں کہ رانا ثناء اللہ کیخلاف قانون کو متحرک کیا جائے اور انہیں سیاست سے آؤٹ کیا جائے۔رانا ثناء اللہ کے ایک اہم دست راست کے چند روز قبل حساس اداروں کے ہاتھوں گرفتار کئے جانے اور ان سے رانا ثناء اللہ کی بعض سرگرمیوں کے حوالے سے تفتیش کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

Related posts

Leave a Comment