ماڈل ٹاؤن آپریشن رانا ثنا اللہ کی نگرانی میں پلان ہوا، باقر نجفی رپورٹ


لاہور(نیوزلائن)پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ پبلک کر دی ۔ رپورٹ کے مطابق لگتا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے پولیس ایکشن روکنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔ فائرنگ کس کے حکم پر ہوئی کوئی بتانے کو تیار نہیں، رانا ثناء اللہ، طاہر القادری کو سیاسی مقاصد پورا کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔ سانحہ کی تہہ تک جانے کیلئے مکمل اختیارات نہیں دیئے گئے۔ ٹربیونل کے سامنے آنے والوں نے ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کی ۔ شواہد کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈس انگیجمنٹ کا حکم نہیں دیا ۔ ماڈل ٹاؤن آپریشن وزیر قانون رانا ثنا اللہ کی نگرانی میں پلان ہوا ۔ حکومت چاہتی تو سانحہ ماڈل ٹاؤن سے بچا جاسکتا تھا ۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے قتل وغارت میں حصہ لیا جبکہ صوبائی حکومت کی بے گناہی پر بھی شکوک و شبہات ہیں۔ جسٹس باقر نجفی کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں پولیس اور پنجاب حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ٹربیونل کے سامنے پیش ہونے والے افسران اور حکومتی نمائندے ایک دوسرے کو بچانے کی ناکام کوشش کرتے رہے جبکہ ٹربیونل سے تعاون بھی نہیں کیا گیا ۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر 132صفحات پر مشتمل رپورٹ میں واضح لکھا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن رانا ثنا اللہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے بعد رونما ہوا ۔ اجلاس میں منہاج القرآن کے باہر لگے سکیورٹی بیریئرز کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اسی رات آپریشن شروع کیا گیا جبکہ آپریشن کرنے سے پہلے قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے ۔ دو ہزار گیارہ میں جاری کئے گئے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو یکسر مسترد کردیا گیا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے آئی جی پنجاب اور ڈی سی او لاہور کی تبدیلی شکوک شبہات کو جنم دیتی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پولیس والوں کو حکم تھا کہ اپنے مقاصد حاصل کریں، چاہے غیر مسلح شہریوں کو قتل ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ سچ کا سراغ لگانے کے لیے پنجاب حکومت نے ٹریبونل کو مناسب اختیارات نہیں دیے۔ حالات کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ سرکار نہیں چاہتی یہ ٹریبونل واضح نتائج تک پہنچے۔ جسٹس باقر نجفی نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ پولیس افسروں نے ٹربیونل کے ساتھ تعاون نہیں کیا اور نہ ہی حکومت چاہتی تھی کہ ماڈل ٹاؤن سانحہ کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچ سکیں ۔ ٹربیونل نے آئی جی اور ڈی سی او کی تبدیلی کے بارے میں سوالات اٹھائے جن کا واضح جواب نہیں ملا ۔ جبکہ ٹربیونل کے سامنے پیش ہونے والے افسران ایک دوسرے کو کور کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ وزیراعلیٰ نے حلف نامے میں کہا کہ انہوں نے سیکریٹری کوڈس انگیج کرنے کا حکم دیا جبکہ وزیرقانون، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری اور ہوم سیکرٹری پنجاب نے وزیراعلیٰ کے ایسے کسی حکم کا ذکر نہیں کیا۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ وزیراعلیٰ 11 بجے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی حلف برداری کی تقریب سے فارغ ہو کر ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے مگر اُنہوں نے ایک بجے تک ماڈل ٹاؤن آپریشن کی صورتحال کا نہ پوچھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت چاہتی تو اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب قومی اور بین الاقوامی میڈیا ضربِ عضب کی کامیابیوں کا بتا رہا تھا، اس وقت منہاج القران میں پنجاب پولیس کی جانب سے ظلم ہو رہا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انسان جھوٹ بول سکتا ہے، حالات نہیں، حالات بتاتے ہیں کہ پولیس والوں نے اس قتل عام میں بھرپور حصہ ڈالا۔ پولیس نے وہی کیا جس کے لیے اسے بھیجا گیا تھا۔ رانا ثناء اللہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنے سیاسی مقاصد پورا کرنے کے کوئی موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس رپورٹ کو پڑھنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ داری کس پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق تمام ذمہ دار افراد ایک دوسرے کو بچانے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ یہ بات شیشے کی طرح صاف شفاف ہے کہ وزیر اعلیٰ کی طرف سے کارروائی روکنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ عدالت کے حکم پر عمل درآمد کیا جاتا تو وزیرِ قانون کو نگرانی میں طے پانے والے آپریشن میں خون خرابا روکا جا سکتا تھا۔ جبکہ تمام بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے کسی بھی وقت کارروائی روکنے کا حکم نہیں دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق کمیشن کو پولیس کے ذریعے تفتیش کروانے کا اختیار حاصل تھا۔ کمیشن نے از خود تفتیش کی ہے نہ کسی پر ذمہ داری ڈالی ہے۔ ٹریبونل اپنے رجسٹرار سمیت منہاج القران گیا اور 45 منٹ تک ڈیٹا کا معائنہ کیا۔ رانا ثناء اللہ، ڈاکٹر توقیر شاہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے فون کا ڈیٹا آئی ایس آئی نے مہیا کیا۔ سپیشل برانچ، آئی بی اور آئی ایس آئی نے اپنے الگ الگ رپورٹ کمیشن کو دی۔ رپورٹ کے مطابق 16 جون 2014ء کی میٹنگ میں رانا ثناء اللہ نے سختی سے کہا کہ طاہر القادری کو اپنی لانگ مارچ کے مقاصد پورے نہیں کرنے دئیے جائیں گے۔ 17جون 2014 کو میں بھی وزیر اعلیٰ نے ڈس انگیجمنٹ کا ذکر نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ نے ڈس انگیجمنٹ کا لفظ استعمال کیا اور حیرت انگیز طور پر سیکرٹری داخلہ اور رانا ثناء اللہ نے استعمال نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے دن صبح 9 سے ساڑھے گیارہ بجے تک صورتحال کنٹرول میں تھی۔ آئی جی نے بتایا کہ انہوں نے 11:30 چارج سنبھالا اور 12 بجے ان کے پاس اس واقعے کی پہلی خبر آئی۔ سی سی پی او شفیق گجر نے بتایا کہ ادارہ منہاج القران کے چیف سیکیورٹی افسر نے مشین گن کے ذریعے پولیس والوں پر فائرنگ کی۔ 300 کے قریب عوامی تحریک کے کارکنوں نے جمع ہو کر پولیس اور ٹی ایم او سٹاف پر پتھراؤ اور فائرنگ کی لیکن پولیس نے عوامی تحریک کے کارکنوں کی نسبت زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ لیکن اوپر سے لے کر نیچے تک کسی پولیس افسر نے نہیں بتایا کہ فائرنگ کا حکم کس نے دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹریبونل سے یہ معلومات چھپائی گئی۔ جسٹس باقر نجفی رپورٹ کے مندرجات کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا کہ تھانہ ماڈل ٹاؤن کے ایس ایچ او کو اے سی ماڈل ٹاؤن نے ایک رات پہلے بتا دیا تھا کہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر بیرئیر ہٹانے پر مذاحمت کی جائے گی۔ اس اجلاس میں شامل تمام لوگوں کو بیرئیرز کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے 2011ء کے احکامات کا علم تھا۔ کمشنر لاہور کی رپورٹ پر بیرئیرز خلاف قانون قرار دی گئی اور انہیں فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

Related posts

Leave a Comment