پیپلز پارٹی کا کامیاب پاور شو: نواز کو نہیں بچائیں گے‘ زرداری


اسلام آباد(نیوزلائن)پیپلز پارٹی کا وفاقی دارالحکومت میں کامیاب پاور شو‘ پی پی پی کے تن مردہ میں نئی جان ڈل گئی۔ جلسے کی کامیابی نے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو اور سابق صدر آصف زرداری کو بھی مسرور کر دیا۔ جلسے میں سابق وزراء اعظم یوسف رضا گیلانی ‘ راجہ پرویز اشرف‘ اعتزاز احسن اور دیگر مرکزی رہنماؤں نے بھی شرکت کی، جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم آپ کو آصفہ اور بلاول بھٹو دے کر جا رہے ہیں ۔پہلے کوئی نہیں مانتا تھا لیکن اب لوگ مانتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے کچھ کیا ہے ۔ سابق صدر نے کہا کہ ہم نے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں اور لوگوں کیلئے روز گار کے مواقع پیدا کئے ۔ بی بی آج زندہ ہوتیں تو بلاول کو دیکھ کر خوش ہوتیں ۔ مشرف کا مستقبل نہیں ہے وہ بهاگ کر چهپ کر بیٹها ہے ۔ جو بهی ہونا ہے ووٹ کے ذریعے ہونا ہے ۔سابق صدر نے کہا کہ میاں صاحب نے پاکستان کو کنگال کر دیا ہے۔ اس گاڈ فادر اور جعلی خان کو بات سمجھ نہیں آرہی۔ ہم نے دو مرتبہ میاں صاحب کی جمہوریت بچائی ہے مگر اب ہم ان کی جمہوریت نہیں بچائیں گے ۔ ہم ان سے لڑیں گے اور مقابلہ کریں گے ۔ ملک کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ہمیں سب پتہ ہے۔ زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب نے پاکستان کو کنگال کر دیا جبکہ جعلی خان کے پاس کچھ ہو گا توعوام کو دیں گے۔ گاڈ فادر اور جعلی خان کو بات سمجھ نہیں آ رہی کہ ورکروں کی وجہ سے سب کچھ ہے۔ عوام نہیں تو پھر کرسی بھی نہیں۔ کچھ بھی ہو گا تو ووٹ کے ذریعے ہو گا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے دو دفعہ نواز شریف کی جمہوریت بچائی۔ ایک دفعہ جعلی الیکشن اور دوسری دھرنے کے دوران بچائی تھی۔ اب ان کی جمہوریت نہیں بچائیں گے، اپنی جمہوریت لائیں گے اور ان سے لڑیں گے اور مقابلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈکٹیٹروں سے ہمیشہ کہا ان کا کوئی مستقبل نہیں، مشرف کا بھی کوئی فیوچر نہیں، وہ باہر چھپ کر بیٹھا ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ محترمہ آج ہم میں ہوتی تو پچاس سال پورے ہونے پر بہت خوش ہوتیں۔ جو وفا بی بی اور میرے ساتھ وہی بلاول اور آصفہ کیساتھ کرنی ہے۔ محترمہ آپ کی اور میری قائد تھیں۔ اقوام متحدہ کی اسمبلی میں محترمہ شہید کی تصویر لہرائی۔ مجھے یقین ہے کہ تمام شہید ہمیں دیکھ اور سن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی بی کی شہادت دے کر پانچ سال حکومت کی اور محترمہ کے تمام وعدے نبھائے۔ ہماری حکومت میں اکانومی بہتر تھی۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ہم نے بڑھائیں اور ہم نے پختونوں کو شناخت دی۔ ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے بھارت پاکستان کو نیپال نہیں بنا سکتا۔ بھارت کو کشمیر نہیں دیں گے۔ سن لو انڈیا والو جب تک پیپلز پارٹی کا ایک ایک بچہ زندہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ جلسہ عام میں افغانستان سے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغان دوست پاکستان کی بات کو سمجھیں۔ افغانستان پاکستان کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان ترقی کرے۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ دہشت گرد جتنے افغانستان اتنے ہی پاکستان کے دشمن ہیں۔ افغانستان کیساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔

بعد ازاں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو، اور بی بی کے اصولوں پر قائم ہے۔ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ قائدین کے پانچ اصول ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ ہم مساوات پر مبنی معاشرہ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم چاہتے ہیں۔ جمہوریت میں ہی پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت ہی ہمیں متحد رکھ سکتی ہے۔ ہمیشہ غیر معمولی حالات میں اقتدار سنبھالا۔ اقتدار اپنے لیے نہیں بلکہ غریبوں کے لیے چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وراثت اور میراث میں فرق ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی ہر اس شخص کی میراث ہے جو شخصی آزادی اور مساوات پر یقین رکھتا ہے۔ پیپلز پارٹی ہر اس شخص کی میراث ہے جو اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔ آج یہ میراث تیسری نسل کومنتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی بی کی شہادت کے دوران ملک جل رہا تھا، تاہم آصف زرداری نے پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد عوام کے غصے کو ٹھنڈا کیا اور پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔ زرداری دور میں بھی خواتین کو ان کا حق دلوایا گیا۔ تنخواہ، پنشن میں اضافہ اور سی پیک کی بنیاد رکھی گئی۔ اٹھارویں ترامیم کے ذریعے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا گیا۔ بلاول بھٹو نے کہا پورے سندھ میں اربوں روپے کی لاگت سے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بلاول نے کہا کہ جمہوریت کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ ہم اقتدار اپنی ذات کیلئے نہیں ، عوام کیلئے چاہتے ہیں۔ ہمارے کارناموں میں 18 ویں ترمیم ، این ایف سی ایوارڈ ، آغاز حقوق بلوچستان فاٹا کا کے پی سے انضمام شامل ہے لیکن ہمیں ابھی آئندہ 50 سال کی جدوجہد کا تعین کرنا ہے ۔ بی بی نے جن اصلاحات کا آغاز کیا تھا ان کا تحفظ کریں گے ۔

Related posts

Leave a Comment