حکومت کی چھٹی کیلئے 30جنوری تک فائنل راؤنڈ ہوگا‘ قوتیں متحرک


اسلام آباد(رانا حامد سے)وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی چھٹی کروانے کیلئے 30جنوری سے قبل فائنل راؤنڈ کھیلا جائے گا۔اس کیلئے متعدد قوتیں متحرک ہو گئی ہیں اور کئی طرح کے گیم پلان بن رہے ہیں۔ پلان میں مسلم لیگ ن کو بھی گیم سے فارغ نہیں کیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی گریٹر گیم کا حصہ ہیں۔پلان کے مطابق مذہبی قوتیں پنجاب اور وفاق سے مسلم لیگ ن کی حکومت کی رخصتی میں اہم کردار اداکریں گی اور ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس پلان کے پورا ہونے کے امکانات روشن نظر آتے ہیں۔ ختم نبوت کے معاملے پر ارکان اسمبلی کے استعفوں کی تعداد بڑھ گئی تو حکومت کیلئے مشکلات بہت زیادہ ہو جائیں گی۔ کچھ قوتیں اس حوالے سے بھی سرگرم ہیں کہ مسلم لیگ ن خود ہی اسمبلیاں توڑ دے ۔ ن لیگ کے بعض حلقے اس پر آمادہ بھی ہیں مگر میاں نواز شریف اور مریم نوازاس آپشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس آپشن کے حق میں ہیں مگر وہ میاں نواز شریف کی آمادگی کے بغیر اس آپشن کو استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ن لیگ سرگرم قوتوں کیساتھ اتفاق کرتے ہوئے اسمبلیاں توڑنے کے آپشن پر سنجیدہ نہیں ہوتی تو ملک کے حالات ایسے کرنے کا آپشن استعمال کیا جائے گا کہ حکومت مجبور ہو کر ہتھیار ڈال دے۔ ایک اہم آپشن خیبر پختونخواہ اور سندھ کی اسمبلیاں توڑنے کا بھی ہے اور اسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ دو اہم صوبوں کی اسمبلیاں توڑنے کی صورت میں وفاقی حکومت کا چلنا ناممکن حد تک مشکل ہو جائے گا۔طاہر القادری کی متوقع تحریک بھی اسی تناظر میں ہو سکتی ہے اور پی پی پی و پی ٹی آئی کا اس تحریک کی کھلے عام حمائت کرنا ن لیگ کو انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار کر دیگا۔اس تحریک کے دوران بھی خیبر و سندھ اسمبلی توڑنے کا آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔جبکہ ملک بھر میں ختم نبوت اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نام پر لاک ڈاؤن بھی حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی رخصتی کیلئے کئی طاقتیں سرگرم ہیں اور گیم پلان میں رخصتی کیلئے کئی طرح کے آپشنز پر کام ہو رہا ہے اس تمام کیلئے 30جنوری کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے جسے 15فروری تک بڑھایا بھی جا سکتا ہے ۔لیکن اولین کوشش یہی ہو گی کہ 30جنوری تک ہی پلان کے مطابق گیم مکمل کر لی جائے۔

Related posts

Leave a Comment