فنڈز نہ ہونے سے ترقیاتی کام تاخیر کاشکار ہیں،میئر کراچی


کراچی(نیوزلائن)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ مختلف لینڈ کنٹرول اداروں سے اجازت لینے اور فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے تر قیاتی کا موں میں تا خیر ہوتی ہے ، جب تک لینڈ کنٹرول ایک ادارے کے پاس نہیں ہوگا بہتری نہیں آئے گی، ملیر کالا بورڈ پر سڑک کی تعمیر سے شہریوں کو ٹر یفک جام سے نجات ملے گی، وزیر اعلیٰ سندھ نے ترمیم شدہPC-I کی منظوری دے دی ہے اور اب اس منصوبہ کی مجموعی لاگت سوا ارب روپے ہے ، شہریوں کی سہولت کے لئے اس سڑک پر پیڈ سٹرین برج بھی تعمیر کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رات گئے ملیر کالا بورڈ کے اچانک دورے اور کا لا بورڈ پر سڑک کی تعمیر کے معائنے کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر چیئرمین ڈی ایم سی کورنگی سید نیر رضا، ورکس کمیٹی کے چیئرمین حسن نقوی، چیئرمین کچی آبادی کمیٹی سعد بن جعفر، ڈائریکٹر جنرل ورکس شہاب انور اور دیگر منتخب نمائندے اور افسران بھی موجود تھے ، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ 12 کلومیٹر طویل نیشنل ہائی وے (N-5) منصوبہ اسٹار گیٹ تا قائد آباد سیوریج کے دیرینہ مسائل کے باعث تاخیر کا شکار ہوا اس سڑک پر سیوریج لائن سے رساؤ کے مسئلے کو حل کرنا ضروری تھا کیونکہ محدود وسائل سے جن سڑکوں کی تعمیر یا استر کاری کی گئی وہ سیوریج لائن اوور فلو کے باعث دوبارہ خراب ہونا شروع ہوگئی تھی، انہوں نے کہا کہ مالی وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس منصوبے میں 6 ماہ کی تاخیر ہوئی تاہم سیوریج کے مسائل حل کرنے کے بعد روڈ کی تعمیر اور کارپیٹنگ شروع کردی گئی ہے اور اب اس کام جلد مکمل کرلیا جائے گا، میئر کراچی نے کالا بورڈ پر تعمیر ہونے والی 12 کلومیٹر سڑک کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات دیں۔

Related posts