کراچی: گھریلو ملازمہ پر مالکن کا تشدد، بچی تھانے پہنچ گئی


کراچی(نیوزلائن)کراچی میں کمسن ملازمہ پر تشدد کا ایک اور کیس سامنے آگیا، پی ای سی ایچ سوسائٹی میں 8 سالہ گھریلو ملازمہ ثنا نے بنگلے کی مالکن کے تشدد سے تنگ آکر پولیس اسٹیشن پہنچ کر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستان سنادی، پولیس کی جانب سے معاملہ دبانے کی کوششیں۔ تفصیلات کے مطابق پی ای سی ایچ سوسائٹی بلاک 6 میں واقع بنگلے میں کام کرنے والی گھریلو ملازمہ 8 سالہ ثنانے پولیس کو بتایا ہے کہ مجھے میرے ابو اور امی ایک برس قبل بنگلے کی مالکن ماریہ اور مالک جنید کے گھر پر کام کے لئے چھوڑ گئے تھے ، گھریلو ملازمہ کا مزید کہنا تھا کہ بنگلے کی مالکن ماریہ مجھے بہت مارتی اور میرا گلہ بھی دباتی تھی اور کام بھی بہت کراتی تھی، بچی کا کہنا تھا کہ ماریہ باجی نے میرے بازو بھی جلائے ، ایک روز بنگلے کی مالکن نے مجھے کچرا پھینکنے باہر بھیجا تو میں وہاں سے بھاگ گئی ، راستے میں مجھے ایک آنٹی ملیں، جنہیں میں نے ساری صورتحال بتائی تو وہ مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئیں، جہاں سے وہ مجھے تھانے لے آئیں، تھانے میں موجود کمسن ملازمہ ثنانے میڈیا کو گلے اور بازو پر تشدد کے نشانات بھی دکھائے ، ثنا کے مطابق وہ پنجاب کے علاقے ملتان کے گاؤں ملکی کی رہنے والی ہے ، ایس ایچ او شہزادہ سلیم نے بتایا کہ بچی پر تشدد نہیں ہوا بلکہ بنگلے کی مالکن نے اپنے بچوں کی چیزیں نہ ملنے پر ملازمہ کو ڈانٹا اور تھپڑ مارا تھا۔

Related posts