پنجاب حکومت 8ماہ میں بھی خاتون محتسب کا تقرر نہ کرسکی


لاہور(نیوزلائن)پنجاب میں خاتون صوبائی محتسب کا ادارہ حکومتی عدم دلچسپی کا شکار ہے ۔جہاں گزشتہ آٹھ ماہ سے محتسب ہی موجود نہیں ، ادارے کی دوسری خاتون محتسب فرخندہ وسیم کی مدت ملازمت گزشتہ برس اپریل میں ختم ہو گئی تھی، تاہم آٹھ ماہ سے زائد عرصہ گزر نے کے باوجود اہم ترین عہدے پر کوئی نئی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی،علاوہ ازیں ادارے میں ڈائریکٹر آئی ٹی ،کنسلٹنٹ اورسیکرٹری کی اہم ترین 3 سیٹیں بھی خالی ہیں،جس کے نتیجے میں لاکھوں روپے ماہانہ فنڈنگ سے چلنے والے ادارے کی کارکردگی صفر ہو کر رہ گئی۔تفصیلات کے مطابق خواتین کی شکایات کی دادرسی کے لیے بنایا جانے والا ادارہ عملی طور پر غیر فعال ہو چکا ہے جہاں حکومت کی عدم توجہی کے باعث گزشتہ آٹھ ماہ سے سربراہ کا اہم ترین عہدہ خالی ہے ، پنجاب حکومت کی جانب سے ویمن ایمپاورمنٹ کے نت نئے دعوؤں کے برعکس2013 میں ملازمت پیشہ خواتین کے حقوق کے ایکٹ 2010 کے تحت قائم ہونے والے ادارے میں خواتین سے متعلق سینکڑوں کیسز التواء کا شکار ہو گئے ہیں،ادارے کے سربراہ کی عدم موجودگی کے باعث درخواست دینے کے لیے آنے والی خواتین کی شکایات کا صرف اندراج کیا جاتا ہے لیکن ان کی داد رسی نہیں ہوتی،گزشتہ سال خاتون محتسب فرخندہ وسیم کی موجودگی تک 98 شکایات درج ہوئیں جن میں سے 34ملزموں کوقصوروار قرار دے کر سزا دلوائی گئی جبکہ19تاحال زیر التوا ہیں ۔سابق خاتون محتسب کے جانے کے بعد سے اب تک درجنوں درخواستیں موصول آ چکی ہیں مگر خاتون محتسب کی غیر موجودگی کے باعث کسی درخواست پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا۔علاوہ ازیں افسران کی غیر موجودگی میں دفتر کے عملے کو بھی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے جو سائلین کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا۔ادارے میں مجموعی طور پر تیس سے پینتیس افراد پر مشتمل سٹاف موجود ہے ۔

Related posts