پنجاب فوڈ اتھارٹی بااثر کولڈ ڈرنک مافیا کے سامنے بے بس


لاہور (نیوزلائن)بااثر کولڈ ڈرنک مافیا کے سامنے پنجاب فوڈ اتھارٹی بے بس ہوگئی ۔تعلیمی اداروں میں کولڈ ڈرنک کی پابندی عائد کرنے کے بعد کارروائیوں کی بجائے چپ سادھ لی ۔ ڈی جی اور ڈائریکٹر آپریشنز سمیت کوئی افسر کولڈ درنکس بارے اپنے ہی قانون پر عمل درآمد کروانے کی کوشش بھی نہیں کر رہا۔ کولڈ ڈرنک مافیا کے پروردہ مافیا نے اس حکومتی پابندی کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔سکول و کالجوں کے پرنسپل اورا ساتذہ بھی اس پابندی کو ناکام بنانے میں مافیا کے ہمنوا ہیں۔ خود پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام بھی پابندی کے حوالے سے کارروائیاں کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی نے تعلیمی اداروں کے اندر اور باہر100میٹر کی حدود میں کولڈ ڈرنک کی فروخت پرپابندی عائد کررکھی ہے ۔مگر اتھارٹی کے حکام اس پابندی کو موثر بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے جوش میں آکر پابندی عائد تو کردی مگربااثر کولڈ ڈرنک مافیا کے سامنے چند ہفتے بھی نہ ٹک سکے اور اندر کھاتے ہی اپنی ٹیم کو چپ کروا ڈالا۔پابندی کے بعد کے دو تین ہفتوں سے لے کر آج تک فوڈ اتھارٹی نے پنجاب بھر میں کہیں کولڈ درنکس کے حوالے سے کارروائی نہیں کی۔پنجاب کے تمام 52ہزار سرکاری سکولوں‘ ڈیڑھ لاکھ پرائیویٹ سکولوں ‘صوبہ بھر کے نجی و سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں کے 100میٹر کی حدود میں کولڈ ڈرنک سپاٹ قائم ہیں۔بعض سپاٹ تو ایسے ہیں کہ جن کے 100میٹر کی حدود میں ایک چھوڑ کئی کئی تعلیمی ادارے ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے احکامات جاری کئے آٹھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور پورے صوبے میں تعلیمی اداروں کے ساتھ واقع کسی ایک کولڈڈرنک سپاٹ کیخلاف ایکشن نہیں لیا گیا۔ہزاروں سپاٹ ایسے ہیں جو سکول‘ کالج‘ یونیورسٹی کے گیٹ کے بالکل سامنے‘ ان کی دیواروں کیساتھ بنائے گئے ہیں مگر پنجاب فوڈ اتھارٹی ان کے خلاف ایکشن لینے کی جرأت ہی نہیں کر پارہی۔ نیوزلائن کے سروے میں سامنے آیا ہے کہ سکول‘ کالج و یونیورسٹیوں کی کنٹین پر کولڈ ڈرنک بند کروانے کا شارٹ کٹ بھی کولڈ ڈرنک مافیا نے ڈھونڈلیاہے۔ سکولوں میں چوکیدار‘ کلرک‘ عملے کے دیگر افراد حتیٰ کہ اساتذہ بھی چور راستے کے ذریعے کولڈ ڈرنک فروخت کرنے میں ملوث ہیں۔کولڈ ڈرنکس کی پابندی کے حوالے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ کولڈ ڈرنکس بچوں کی صحت کیلئے زہر قاتل ہیں۔ ہڈیوں کا ٹیڑھا پن اور متعدد دیگر امراض پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ کولڈڈرنک ہیں۔ ان میں پیپسی‘ کوکا کولا‘ مرنڈا‘ ڈیو‘ سیون اپ‘ فانٹا‘ سپرائٹ‘ گورمے کولا‘ نیکسٹ کولا ‘ سٹنگ‘ انرجی ڈرنکس سمیت کسی کی بھی تمیز نہیں ہے۔ سب ہی زہر ہیں اور انہیں استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ سکول‘ کالج‘ یونیورسٹیوں میں ان کی فروخت پر پابندی مفاد عامہ کے تحت لگائی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں کے اندر ہی نہیں ان کے باہر 100میٹر کی حدود میں بھی کولڈ درنکس کی فروخت پر پابندی ہے اور اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا۔تا ہم ابھی تک یہ صرف زبانی جمع خرچ اور عوام کو بے وقوف بنانے کے نعرے ہی ثابت ہو رہے ہیں۔عملی طور پر ڈی جی سمیت اتھارٹی کا کوئی افسر کچھ نہیں کر رہا۔اور تمام حکام ابھی تک بااثر کولڈ ڈرنک مافیا کے سامنے سرنڈر کئے بیٹھا ہے۔

Related posts