صحافت کا لاشہ : میاں محمد ندیم



صحافت کی آزادی اسی وقت ”خطرے“میں پڑتی ہے جب سیٹھ کے مفاد کو خطرات لاحق ہوں یا کسی بڑے”گروہ“کا کارندہ نشانے پر آجائے -ورکرکوذلیل کیا جائے‘اس کی تنخواہ روکی جائے‘وہ معاشی دہشت گردی کا شکار ہوکسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی-سیٹھ نے ٹریڈیونین میں دھڑے بندیاں کرواکر ایسا مارا ہے کہ لوگوں کے حقوق کی بات کرنے والا کارکن صحافی زندہ درگور ہوگیا ہے-تیئس برس کی خواری کا نچوڑ ہے کہ آزادی صحافت‘آزادی اظہار رائے سب فراڈ ہے -یہ موم کی ناک ہے سیٹھ مافیا جس طرف چاہے مروڑدے-پرنٹ میڈیا میں کام کرنے والے کارکن صحافی ٹربیونل میں جاکر کیس دائرکرسکتے ہیں مگر مالکان کی حکومتوں سے ناپاک اتحاد کی وجہ سے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود انیس سو تہترکے ”نیوزپیپرزایمپلا​ئزایکٹ“میں میں آج تک ترمیم کرکے الیکٹرانک میڈیا کے لیے کام کرنے والے ورکرزکو حق نہیں دیا گیا کہ وہ ٹربیونل(آئی ٹی این ای) میں جاسکیں-مدتوں بعد پریس کلب میں باقاعدگی سے حاضری اور احباب سے ملاقاتوں سے انتہائی شرمناک تصویرسامنے آرہی ہے صحافت کی-کراچی‘اسلام آباد کے دوستوں سے گفتگو میں وہاں کے حالات معلوم ہوتے رہتے ہیں-کراچی میں خود کو سب سے بڑا نجی ٹی وی چینل کہلوانے والوں نے دوماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی باقی چینلزمیں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے-پرنٹ میڈیا سے وابستہ کارکن صحافیوں کی حالت اس سے بھی بری ہے -کئی اخبارات تو ایسے ہیں جن میں تنخواہیں دینے کا رواج ہی ختم ہوچلا ہے-اب وقت پر تنخواہ ملنے سے بات کہیں آگے بڑھ چکی ہے -بڑے بڑے دانشور جو ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر اسلام سکھاتے ہیں‘قوم کی راہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں ان کے اپنے اداروں میں کام کرنے والے کارکنوں کوکئی کئی ماہ کے بعد تنخواہیں ملتی ہیں-شام ڈھلتے ہی ٹیلی ویژن سکرینوں پر بیٹھ کر ڈگڈیاں بجانے والے مداری سیٹھ کو گر بتاتے ہیں کس طرح کارکن صحافیوں کا معاشی قتل کیا جائے-یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے سیٹھ مافیا سے مل کر صحافت کو زندہ درگور کردیا ہے‘انہیں طوائف سے تشبیہ دینا یقینی طور پر طوائف کی توہین ہے کہ یہ اس بھی زیادہ گرے ہوئے ہیں- کچھ پرانے دوست مل کر اچھے وقتوں کو یاد کرکے صحافت پر نوحہ خوانی کررہے تھے کہ ایک دوست نے سوال کیا بنے گا کیا؟قریب بیٹھے ایک سنیئرفرمانے لگے صحافت تو کب کی مرچکی ‘اب تو اس کی لاش سے تعفن بھی اٹھنے لگا ہے-میں اپنے بزرگ دوست کی بات سے متفق ہوں کہ اب صحافت کی لاش کندھوں پر اٹھائے پھر رہے ہیں ہم سب اور لاش بھی ایسی کہ جس سے بدبو کے بھبکے اٹھ رہے ہیں-کارکن صحافی اگر اپنے وقار کی بحالی چاہتا ہے‘اگر وہ ایک غلام کی طرح نہیں بلکہ ورکر کی طرح عزت کا خواہشمند ہے تو اسے قربانی دینا ہوگی ‘اسے ان بتوں کو توڑنا ہوگا جسے اس نے اپنے ہاتھوں سے تراشا‘جنہیں لیڈرورکر نے بنایا مگر وہ ورکر سے غداری کرکے سیٹھ مافیا سے جاملے‘وہ جنہیں راہبرمانا اور وہ راہزان نکلے ‘ان کے خلاف کارکن صحافیوں کو اٹھنا ہوگا-اگر ورکر اپنے حق کے لیے نہیں اٹھتا ‘وہ قربانی دینے کو تیار نہیں تو پھر بدبودار لاش کی تدفین کا انتظار کرئے جو ہونے ہی والی ہے-
میاں محمد ندیم

Related posts