شہباز شریف کے پنجاب میں 6ہزار سکول پراسرار طور پر غائب



فیصل آباد(احمد یٰسین)شہباز شریف کے دور میں پنجاب کے چھے ہزار سے زائد سکول پراسرار طور پر غائب ہوگئے۔ محکمہ تعلیم میں ان کا ڈیٹا موجود رہا ہے اور نہ محکمہ تعلیم کے حکام ان کے بارے میں کچھ کہنے کو تیار ہیں۔ سکول کیوں بند ہوئے۔ ان کی اراضی کہاں گئی اور ان کیلئے مختص فنڈز کیساتھ کیا جا رہا ہے اس بارے میں محکمہ تعلیم کے حکا م کوئی معلومات دینے کو تیار نہیں ہیں۔ شہباز شریف حکومت کی تیار کروائی گئیں اپنی ہی رپورٹس ان کیخلاف ثبوت بن گئی۔ نیوزلائن کے مطابق میاں شہباز شریف کی گڈ گورننس کے سائے میں اچانک پراسرار انداز میں پنجاب کے چھے ہزار سکول غائب ہو گئے ہیں۔ ان کا وجود فائلوں اور دستاویزات سے غائب کر دیا گیا ہے اور زمین سے بھی ان کے وجودکی نشانیاں مٹانے کی کوششیں جاری ہیں۔سکولوں کی اراضی بھی پراسرار طور پر محکمہ تعلیم کے ریکارڈ سے غائب اور قبضہ مافیا کے پاس جارہی ہے۔ نیوزلائن کے مطابق سال 2012میں میاں شہباز شریف کی حکومت کو اچانک انکشاف ہوا ہے کہ صوبے کے سکولوں میں معاملات ٹھیک نہیں ہیں جس پر صوبہ بھر کے سکولوں کی ’’سکول شماری ‘‘ کروائی گئی ۔اس سکول شماری میں ناپید سہولیات اور سکولوں کی حالت زار بھی سامنے آئی۔ سکول شماری میں سامنے آیا کہ بہت بڑی تعداد میں سکولوں کی حالت انتہائی دگرگوں ہے۔ پنجاب حکومت نے ان سکولوں کی حالت زار ٹھیک کرنے اور وہاں سہولیات فراہم کرکے انہیں حصول علم کا سنٹر بنانے کی بجائے انوکھا فیصلہ کیا اور ہزاروں سکولوں سے سکول کا سٹیٹس ہی چھین لیا۔ان سکولوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ۔ ان کا ملبہ تک لوگ اٹھا کر لے گئے جبکہ ان سکولوں کی قیمتی سرکاری اراضی کو بااثر مافیاز کو وبضہ کرنے کیلئے لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ اگرچہ پنجاب کے سکولوں کی حالت زار اب بھی کوئی بہتر نہیں ہے مگر سکول سٹیٹس سے محروم ہونے والے سکولوں کا تو کوئی والی وارث ہی نہیں رہا۔ نیوزلائن کو ملنے والی رپورٹس کے مطابق محکمہ تعلیم اپنی کی گئی سال 2012کی ’’سکول شماری ‘‘ کی رپوٹ انکشاف کرتی ہے کہ پنجاب میں 58153سکول ہیں اور ان میں بہت بڑی تعداد میں سکولوں میں سہولیات میسر نہیں ہیں۔ پنجاب حکومت نے ہزاروں سکولوں سے سکول کا سٹیٹس ہی چھین لیا اور اگلے سال نئی ’’سکول شماری ‘‘میں ان کو سکول کے طور پر گنا ہی نہیں گیا۔ سال 2013کی سکول شماری میں صرف 54914سکول پنجاب میں گنے اور اتنے ہی سکول شمار ہوئے۔ سال 2014میں سکول مزید کم کر دئیے گئے اور سال 2015اور سال 2016میں پنجاب بھر میں مزید سکولوں کی چھانٹی کردی گئی سینکڑوں مزید سکولوں سے سکول کا سٹیٹس چھین کر ان کی زمین کو قبضہ مافیاز کے حوالے کر دیا گیا۔ان کے فنڈز دوسرے سکولوں کے حوالے کر کے انہیں لوٹ مار کا موقع فراہم کیا گیا۔رپورٹس سے انکشاف ہوتا ہے پنجاب حکومت موجود وقت میں صرف 52231سکولوں کو ہی سکول مان رہی ہے۔ اکتوبر 2012میں گنے گئے 58153سکولوں میں سے اب صرف 52231سکول ہی رہ گئے ہیں باقی چھے ہزار سکول کہاں گئے اس بارے پنجاب حکومت کے ذمہ داران کوئی جواب دینے کو تیار نہیں ہیں۔ فیصل آباد میں ایسے سینکڑوں سکولوں کے آثار ملے ہیں جہاں ماضی میں کبھی سرکاری سکول ہوتے تھے مگر اب وہاں صرف چٹیل میدان ہیں اور قبضہ مافیا ان پر قابض ہے۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ صرف فیصل آباد میں ساڑھے چار سو سے زائد سکول صفحہ ہستی سے غائب کئے جا چکے ہیں اور ان کی اراضی پر قبضہ مافیاز نے قبضہ جما رکھا ہے۔

Related posts