عدالت میں 90 میڈیکل کالجزکی خلاف قانون رجسٹریشن کا انکشاف


اسلام آباد(نیوزلائن) عدالت عظمیٰ نے پی ایم ڈی سی کی تحلیل اور سنٹرل ایڈمیشن پالیسی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پی ایم ڈی سی کے سابق سربراہ اور پی پی پی دور کے سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر عاصم حسین کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست نے تعلیم کیلئے کیا کیا ہے، ہمارے بچوں اور عام آدمی کے بچوں کیلئے نظام تعلیم میں واضح تفریق ہے، نظام تعلیم یکساں ہوناچاہئے، ایک کتاب، ایک یونیفارم بچوں میں تفریق ختم کردیگی، پارلیمنٹ سپریم ، احساس ہوگا 3کروڑ بچے اسکول نہیں جارہے، میری عدالت میں آئین کی کتاب پھینکی تو ردعمل دیکھے گا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی تو اپیل کنندہ پی ایم ڈی سی کے وکیل اکرم شیخ نے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر عاصم حسین نے 85میڈیکل کالج رجسٹرڈ کیے تھے ،90کالجز کو 2007میں بغیر تصدیق کیے ہی تیزی سے رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے داخلہ پالیسی اور کونسل کے وجود کو ہی کالعدم قرار دیدیا ہے، 2007 میں ملک میں کل 28 میڈیکل کالجز تھے لیکن ڈاکٹر عاصم کی پالیسیوں کی وجہ سے2012 میں یہ تعداد ایک سو سے بھی تجاوز کر گئی تھی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے معاملات درست سمت میں لیکر جانے ہیں۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ ماضی کی برائیاں مستقبل میں نہ ہونے پائیں ،وفاقی حکومت نے میڈیکل کالجز کے حوالے سے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے اگر کوئی کالج غلط رجسٹرڈ ہوا ہے لیکن معیار کے مطابق کام کررہا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، نجی شعبہ تعلیم ملک میں خدمت کررہا ہے، کچھ خرابیاں بھی ہیں لیکن بہت سے ا چھے اچھے ادارے بھی ہیں، ہم میڈیکل کالجز کے سسٹم کو تباہ نہیں بلکہ درست کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ڈاکٹر عاصم عدالت میں موجود ہیں؟ تو عدالت کو بتایا گیا کہ وہ موجود نہیں، ان کی جانب سے لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہو رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا ہم نے انہیں کل کیلئے ذاتی حیثیت سے طلب کر رکھا ہے۔ دوران سماعت اکرم شیخ نے ایک طالب علم فہد ملک کے حوالے سے بتایا کہ اس کا کیس یہ تھا کہ او لیول پا س کر کے جب اے لیول میں داخلہ لیا تو اس وقت 2016 کے ریگولیشنز نہیں تھے، اس لیے اس کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ اے لیول کے طالب علموں کیلئے میڈیکل کالج میں داخلے کیلئے دو طریقہ کار ہیں، پہلا انٹری ٹیسٹ اور دوسرا پندرہ فیصد کوٹہ سسٹم، اگر صرف اے لیول کو ترجیح دی جائے تو پھر لورالائی اور دیگر علاقوں کے طالب علم میڈیکل میں داخلہ نہیں لے سکیں گے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ پورے ملک میں طالبعلموں کی ایک کتاب، ایک بستہ اور ایک جیسی یونیفارم ہو، اگر میں کوئی بات کرتا ہوں تو اخبار والے شہہ سرخیاں لگا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم خود معصوم بچوں میں تفریق پیدا کررہے ہیں،ہمارے بچوں اور عام آدمی کے بچوں کیلئے نظام تعلیم میں واضح تفریق ہے، نظام تعلیم میں یکسانیت ہونی چاہیے، اے لیول کرنے والے بچے بھی محنتی ہیں، ہم چاہتے ہیں یکساں بنیادوں پر قائم نظام تعلیم ہو، کیا اس حوالے سے ریاست آئین کے تحت اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے؟ انہوں نے ریاستی اداروں پر برہمی کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے میدان میں ریاستی لاپرواہی غیر معمولی ہے، کیا آئین کا آرٹیکل 25 A محض سجاوٹ کیلئے ہے،ہم ایک دن میں تو سب کچھ تبدیل نہیں کرسکتے لیکن آہستہ آہستہ چیزوں میں بہتری لائیں گے۔ رٹیکل 25 اے کہتا ہے کہ 5 سال سے 16 سال تک کی عمر کے بچوں کو تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، کیا ریاست تعلیم کی فراہمی سے متعلق فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ چیف جسٹس نے سست رونظام انصاف کے حوالے کہا کہ1962 میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا اس کی سماعت 30 جنوری کو سپریم کورٹ میں ہوگی،مقدمات میں تاخیر کو ختم کر کے میں بہتری لائیں گے، عدالتی نظام میں مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کے معاملہ پر قانون سازوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرونگا۔ لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان میں تین کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ملک و قوم کو جو نقصان ہوا ہے وہ ہماری وجہ سے ہے، ملک کو نقصان پہنچانے میں معصوم بچوں کا کوئی قصور نہیں، پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، وہ تعلیم کیلئے کوشش کررہا ہوگا، بچوں کو دینے کیلئے تعلیم سے بہتر کوئی زیور نہیں۔ بہتر نظام تعلیم سے ہم اپنے مسائل کو کم کرسکتے ہیں، نظام تعلیم میں بہتری کے ذریعے ہی ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہوگی، بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے قانون سازوں کو کردار ادا کرنا چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئین بڑی مقدس کتاب ہے،کسی نے میری عدالت میں آئین کو پھینکا تو میرا ردعمل دیکھ لے گا۔ نظام تعلیم میں مساوی مقابلہ کا موقع ملنا چاہیے ،بعد ازاں عدالت نے مذکورہ حکم جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

Related posts