اپوزیشن کا مشترکہ جلسہ، شیخ رشید اسمبلی رکنیت سے مستعفی



لاہور(نیوزلائن) مال روڈ پر متحدہ اپوزیشن کا جلسہ اختتام پذیر ہو گیا ہے ،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے مشترکہ جلسے میں اسمبلی رکنیت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شیخ رشید کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے استعفوں کے حوالے سے اپنی پارٹی سے مشاورت کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر شیخ رشید سے آملیں ، اس سے قبل سابق صدر آسف زرداری کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی رہے اور جمہوری سفر جا ری رہے مگر یہ ہمیں مجبورکررہے ہیں کہ ہم جمہوریت کا سفر پورانہ کریں، جب چاہوں میں انہیں اقتدار سے الگ کر سکتا ہوں اور مجھے ذرا دیر نہیں لگے گی، ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ اب یہ صرف ہماری نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مشترکہ جنگ ہے,آج معاشرے میں تفریق پیدا ہوچکی ہے،سانحہ ماڈل ٹاؤن نے تمام سیاسی جماعتوں کو اکھٹا اور زینب، شازیہ، تنزیلہ کے خون نے پوری قوم کو یکجا کردیا ہے ،کوئی فیصلہ تنہا نہیں ہوگا، مشترکہ جنگ مل کر لڑیں گے، آیندہ دو دن میں دوبارہ ملاقات کررہے ہیں جس میں آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ مال روڈ پر اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ جلسے کے پہلے سیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین اور دیگر جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے خطاب کیا جبکہ اس سیشن کی صدارت آصف علی زرداری نے کی ۔سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی رہے اور جمہوری سفر جا ری رہے مگر یہ ہمیں مجبورکررہے ہیں کہ ہم جمہوریت کا سفر پورانہ کریں، جب چاہوں میں انہیں اقتدار سے الگ کر سکتا ہوں اور مجھے ذرا دیر نہیں لگے گی ، اس ملک کو صرف جاتی امرا سے خطرہ ہے اور یہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں لیکن جب تک میں ہوں اس ملک کو کمزور نہیں ہونے دوں گا۔انہوں نے کہا کہ ان کے منہ سے بڑے پھول جھڑتے تھے، ہم جمہوریت کی خاطر جواب نہیں دیتے تھے لیکن اب یہ چاہتے ہیں جمہوریت کا سفر پورا نہ ہو۔انہوں نے نواز شریف کا نام لئے بغیر کہا کہ آپ کے ساتھ ابھی ہوا کیا ہے؟ ہوا تو پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے،ہوا تو قادری صاحب کے ساتھ ہے، ہم نے ہمیشہ پاکستان کھپے کہا، ہمیشہ پاکستان کی بات کی،اس ملک کو خطرہ اور کسی سے نہیں صرف جاتی امرا سے ہے، یہ چاہتے ہیں پاکستان کمزور ہوجائے لیکن جب تک میں ہوں اس ملک کو کمزور نہیں ہونے دوں گا۔اپنے خطاب کے فوری بعد آصف علی زرداری جلسہ گاہ سے روانہ ہوگئے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی روانگی کے فورا بعد ہی عمران خان بھی سٹیج پر پہنچ گئے اور دوسرے سیشن کی صدارت کی ۔ عمران خان کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں شہریوں کی طرف پولیس اس طرح گولیاں نہیں چلاتی،ساری دنیا نے ٹی وی پر دیکھا کہ پولیس نہتے شہریوں پر گولیاں چلا رہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ زینب کے والدین نے پنجاب پولیس اور وزیراعلیٰ پنجاب کے بجائے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے انصاف مانگا کیوں کہ انہیں پتہ تھا کہ انصاف وہیں سے ملے گا جبکہ دوسری طرف ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کی بے حرمتی کے واقعے میں پولیس نے 9 ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ مشال خان قتل کیس میں 57 میں سے 55 ملزمان جیل میں ڈالے گئے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں، پہلے پیسے لے کر پوسٹنگز اور ٹرانسفر کیے جاتے تھے،جرائم کے اعداد و شمار میں صوبے میں بہتری آئی ہے جبکہ دہشتگردی بھی کم ہوئی ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی عباس خان سے پوچھا کہ پنجاب پولیس کرپٹ کیوں ہے ؟جس پر ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے میرٹ ختم کرکے پولیس میں بھرتی کی،کرپشن کی دوسری وجہ پیسے دے کر پولیس کی نوکری ملنا ہے، جو پیسے دے کر بھرتی ہوا اس نے ریکوری تو کرنی ہے اپنے پیسوں کی۔انہوں نے شہباز شریف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آپ مردان جائیں اور پولیس پر تنقید کریں گے تو لوگ آپ کو انڈے اور ٹماٹر ماریں گے،میں پورے وثوق سے کہتا ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں سب کچھ ان کے حکم پر کیا گیا تھا۔ عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ اب یہ صرف ہماری نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی بھی مشترکہ جنگ ہے، شریف بردران نے یونانی دیوتاﺅں کی طرح خود کو جمہوریت کا ناخدا بنا رکھا ہے، انہوں نے پنجاب پولیس کو ن لیگ کا عسکری ونگ بنا دیا ہے، سپاہی سے آئی جی تک تقرر و تبادلہ ان کے ہاتھ میں ہے، گذشتہ 10سالوں میں ساڑھے سات سو ارب روپے پنجاب پولیس کو دیا گیا ،نواز شریف مجیب الرحمان کو اپنا نظریاتی قائد مانتے ہیں ، یہ پورا پاکستان توڑ کر ایک صوبے کو پاکستان کا عنوان دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے، ہم سب کو نئے دور کے مجیب الرحمان سے ملک کو بچانا ہوگا، ہم آئین نہیں بلکہ سلطنت شریفیہ کو توڑنا چاہتے ہیں۔ مال روڈ مشترکہ جلسے میں خطاب کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل کاروباری لوگ ہیں اور شریف برادران مال لگا کر سیاست کرتے ہیں،نواز شریف آج جگہ، جگہ دھکے کھا رہے ہیں، اجمل قصاب کے گھر کا پتہ نواز شریف نے دیا لیکن مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ شریف برادران تقریروں سے نہیں جاتے اس لیے میں آج اسمبلی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتا ہوں اور عمران خان سے بھی کہتا ہوں کہ ان کی جماعت اسمبلی سے استعفیٰ دے اور عمران خان بھی ایسی اسمبلی سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کریں ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی قیادت میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خلاف بھر پور پاور شو کا مظاہرہ کیا گیا ، مال روڈ پر جلسہ کی وجہ سے چیئر نگ کراس چوک سے جی پی او چوک تک تمام راستے بند کردیے گئے۔ جلسے میں تقریبا تمام اپوزیشن جماعتوں نے شرکت کی جن میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ق)پاک سرزمین پارٹی ،سنی اتحاد کونسل ،جمعیت علمائے پاکستان سمیت دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں کے رہنما اور کارکن شریک ہوئے ۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات جلسہ گاہ کے ارد گرد اور قریبی عمارتوں پر تعینات کی گئی جب کہ حساس مقامات کی حفاظت کی ذمہ داری رینجرز کے سپرد کی گئی۔ عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری، پی پی پی کے رہنما چیرمین آصف علی زرداری، خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ، اعتزاز احسن، راجہ پرویز اشرف، مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الہی، کامل علی آغا ،چوہدری ظہیر الدین ، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی ،چوہدری محمد سرور ،عبد العلیم خان،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اور دیگر رہنما اسٹیج پر موجود رہے ۔ مال روڈ بند ہونے سے آس پاس کی سڑکوں پر ٹریفک بھی جام ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ جلسے اور احتجاج کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد جلد از جلد دفاتر اور دکانیں بند کرکے گھروں کا رخ کیا۔ دھرنے اور جلسے کی وجہ سے آج صبح سے ہی علاقے کے تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج، اولڈ کیمپس جامعہ پنجاب، نیشنل آرٹس کالج اور تمام سکولز بند کردیے گئے جبکہ پینوراما، مال روڈ ، ہال روڈ اور ریگل چوک کے تمام تجارتی مراکز کو بھی تالے لگادیے گئے۔ دکانوں اور تجارتی مراکز کی بندش کی وجہ سے تاجروں کو کروڑوں مالیت کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ رکاوٹوں کے باعث عدالتی امور بری طرح متاثر ہوئے جبکہ وکلا اور ججز تاخیر سے عدالتوں میں پیش ہوئے۔ پولیس نے احتجاج کے حوالے سے خصوصی سیکورٹی منصوبہ تیار کیا تھا ۔جلسہ شروع ہونے اور مرکزی قیادت کے سٹیج پر جلوہ افروز ہونےسے قبل ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدراشرف کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس نہ اسلحہ ہوگا اور نہ ہی ڈنڈا، مال روڈ کو جانے والے راستوں پر اسنیپ چیکنگ شروع کردی گئی ہے، جب کہ سیاسی جماعتوں کے رضاکار بھی جلسہ گاہ میں آنے والوں کی چیکنگ کررہے ہیں۔ حکومت نے امن وامان کی صورتحال کوکنٹرول کرنے اور سرکاری عمارتوں کی حفاظت کے لیے رینجرز کی تین کمپنیوں کو طلب کیا ہے۔ راناثنااللہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام سانحہ ماڈل ٹاون پر ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون راناثنااللہ کو مستعفی ہونے کے لیے 7 جنوری کی مہلت دی تھی تاہم حکومت نے اپوزیشن کے مطالبے کو کوئی اہمیت نہیں دی جس پر طاہر القادری نے حکومت کے خاتمے کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔

Related posts