فیصل آباد میں تعصبات سے پاک میڈیا رپورٹنگ بارے تربیتی ورکشاپ


فیصل آباد(نیوزلائن)فیصل آباد کے صحافیوں کیلئے تین روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ورکشاپ کا اہتمام جرنلزم فار ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس ‘‘ نے کیا تھا۔ورکشاپ کے تربیتی سیشنز کے دوران سینئر صحافی اور جے ڈی ایچ آر کے صدر شفقت منیر ‘ سینئر صحافی خالد جمیل‘ عظمیٰ لطیف ‘ پروگرام منیجر جے ڈی ایچ آر شائستہ ملک نے میڈیا نمائندگان کو تعصبات سے پاک رپورٹنگ ‘ معاشی ‘معاشرتی ‘ مذہبی اور جغرافیائی تعصبات کے میڈیا اور سماج پر اثرات اور ان کے نقصانات بارے آگاہ کیا اور اقلیتی گروپس ‘ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات ‘ خواتین کو درپیش مسائل بارے گاہے بگاہے رپورٹنگ کرنے کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا۔ورکشاپ میں فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر ندیم جاوید‘ سابق اسسٹنٹ سیکرٹری پی ایف یو جے حامد یٰسین‘ سابق جنرل سیکرٹڑی ایف یو جے قدیر سکندر‘طاہر رشید‘ ذیشان خان‘ سابق سیکرٹری فیصل آباد پریس کلب علی اشفاق ہاشمی‘ سابق سیکرٹری فیصل آباد پریس کلب حامد رفیق‘شہزاد مقصود شامی‘ وقاص حیدر‘ اورنگزیب ملک‘ ندیم شہزاد‘ عبداللہ مسعود‘ نورالامین‘منظور عالم ایاز‘ حیدر عباس‘ ابرار بیگ‘ محمد عثمان‘ عرفان جاوید‘ عاطف چوہدری ‘ راشد علی و دیگر صحافی شریک ہوئے ۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جے ڈی ایچ آر کے صدر شفقت منیر ‘ سینئر صحافی خالد جمیل‘ عظمیٰ لطیف ‘ شائستہ ملک نے کہا کہ پاکستانی میڈیا کو بھیڑ چال کا شکار ہونے کی بجائے محروم طبقات کی آواز بننا چاہئے ۔ میڈیا نمائندگان سیاست پر فوکس کرنے کی بجائے سماجی مسائل کو اجاگر کریں اور محرومیوں کا شکارطبقات کی آواز بنیں اور سماجی مسائل حل کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔انکا کہنا تھا کہ صحافی کسی بھی معاشرے کا سب سے اہم حصہ ہوتے ہیں۔ صحافی اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کریں تو معاشرے میں سدھار لانے کے امکانات بڑی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری سوسائٹی میں خواتین‘ اقلیتوں اور محروم طبقات کے حوالے سے بہت سی من گھڑت باتیں پائی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جبکہ رپورٹنگ کرتے ہوئے بھی سچ کو مدنظر رکھنے کی تصویر کا غلط رخ پیش کردیا جاتا ہے۔ واقعاتی رپورٹنگ نے ہمارے میڈیا کو بھیڑ چال کا شکار کردیا ہے ۔ دادا گیر صحافتی طبقہ کیساتھ اب منشی گیر صحافتی طبقہ جنم لے رہا ہے جو حالات کا درست ادراک نہی کر پاتا۔ اس حوالے سے ہمیں خود احتسابی کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور حالات و واقعات کا عملی انداز میں ادراک کرکے حقائق کے مطابق رپورٹنگ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی خود احتسابی پورے معاشرے کی خوداحتسابی ہے۔ ہم معاشرے کی درست تصویر پیش کریں اور حقائق کے مطابق ذمہ دارانہ رپورٹنگ کریں تو معاشرے میں بہت تیزی سے اور درست سمت میں تبدیلی آئے گی۔اس کے ساتھ ہی ضرورت ہے کہ میڈیا نمائندگان حقائق بیان کرتے ہوئے اپنی رائے اور تعصبات کو رپورٹنگ کا حصہ بنانے سے گریز کریں۔حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹ تیار کریں۔ الفاظ کا چناؤ بہتر سے بہتر رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ سماجی مسائل حل کرنے میں مدد نہ ملے۔ ورکشاپ کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ فیصل آباد کا صنعتی مزدور استحصال کا شکار ہے۔ فیصل آباد میں 85فیصد صنعتی مزدور سوشل سکیورٹی رجسٹریشن جیسے بنیادی حق سے ہی محروم ہے اور سوشل سکیورٹی رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے وہ فری علاج‘ مفت ایجوکیشن‘ میرج گرانٹ‘ ڈیتھ گرانٹ‘ تعلیمی وظائف ‘ لیبر کالونیوں میں حصہ لینے اور محنت کشوں کیلئے حکومت کی طرف سے اعلان کردہ دیگر مراعات حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ ورکشاپ کے دوران فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر ندیم جاوید‘ حامد یٰسین‘ قدیر سکندر‘ علی اشفاق ہاشمی‘ حامد رفیق‘ طاہر رشید و دیگر نے بھی خیالات کا اظہار کیا اور اس طرح کی تربیتی ورکشاپ کو میڈیا نمائندگان کیلئے انتہائی مفید اور بامقصد قرار دیا۔

Related posts