پولیس اور سیاستدانوں کی سرپرستی میں کھلے عام منشیات فروشی


کراچی (نیوزلائن)پاکستان میں بسنے والا ہر شخص کبھی نا کبھی یہ سوچنے پر ضرور مجبور ہو جاتا ہے کہ یہاں جرائم پیشہ افراد اتنے بے خوف اور بے باک کیوں ہیں۔ ملک میں طرح طرح کی سکیورٹی ایجنسیوں اور جگہ جگہ پولیس سٹیشن واقع ہونے کے باوجود یہ کیسے ممکن ہے کہ غنڈے، بدمعاش سر عام جرائم کرتے ہیں اور کوئی انہیں روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوتا۔ اس سوال کا جواب کراچی کے علاقے چنیسر گوٹھ میں کئے گئے اینٹی ڈرگ آپریشن کی رپورٹ کی صورت میں سب کے سامنے ہے، اور بدقسمتی سے یہ جواب بہت ہی لرزہ خیز ہے۔ اس رپورٹ میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، خصوصاً پولیس، سپیشل و انٹیلی جنس برانچ اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے درجنوں سینئیر و جونئیر اہلکار،منشیات فروشوں اور سمگلروں کے ساتھ مل کر شہر میں غیر قانونی کاروبار چلا رہے ہیں اور بااثر شخصیات و سیاستدان اس کالے دھندے کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ چنیسر گوٹھ میں یہ دھندہ گزشتہ تین دہائیوں سے پھل پھول رہا تھا البتہ چار ماہ پر محیط آپریشن کے دوران اس غیر قانونی کاروبار کے خاتمے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ اس آپریشن کے دوران ڈیڑھ سو سے زائد منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی جبکہ درجنوں پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا ہے، جو کانسٹیبل سے لے کر ڈی ایس پی تک کے عہدے پر فائز تھے۔ ماضی میں اس نوعیت کا ایک بھی آپریشن کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ بااثر افراد اور خصوصاً طاقتور سیاستدان آپریشن کے راستے کی رکاوٹ بن جاتے تھے لیکن اس بار ان بااثر شخصیات کو خصوصی طور پر پیغام دیا گیا تھا کہ وہ مجرموں کی مدد کرنے سے باز رہیں۔

Related posts