شہباز شریف ن لیگ کے قائمقام صدر‘نواز تاحیات قائد منتخب


لاہور(نیوزلائن) مرکزی مجلس عاملہ نے نواز شریف کو پارٹی کا تاحیات قائد جبکہ شہبازشریف کو بلا مقابلہ مسلم لیگ(ن) کا قائم مقام صدر منتخب کرلیاجبکہ 6مارچ کو اسلام آباد میں جنرل کونسل اجلاس میں شہبازشریف کو مستقل صدر منتخب کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق منگل کے روز لاہور میں180ایچ ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ(ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس پارٹی صدارت کے حوالے سے ہوا جس کی صدارت چیئرمین راجہ ظفرالحق نے کی،اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،سابق وزیراعظم نوازشریف،وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف،مریم نواز،حمزہ شہبازشریف،وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان،گورنر پنجاب رفیق رجوانہ،گورنر سندھ محمد زبیر،سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق،وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال،وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق،وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر اور سینیٹر پرویز رشید ودیگر مرکزی قائدین نے شرکت کی۔اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے حالیہ عدالتی فیصلوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا جرم پی سی او کے تحت حلف لینے سے بہت کم ہے برملا کہتا ہوں کہ یہ فیصلے نہیں مانتا،لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ملک کے آئین کو چھوڑ کر آمر کا حلف لینا سب سے بڑا جرم ہے اور وہ جج ہمارے خلاف اس طرح کے فیصلے دیں اور ہم سرتسلیم خم کریں، نواز شریف اسے تسلیم نہیں کرسکتا۔نواز شریف نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے وزیراعظم کے طور پر ہٹایا گیا، اب پارٹی صدارت سے بھی ہٹا دیا گیا، کیا آپ کا دل تسلیم کرتا ہے اور کیا فیصلوں پر ردعمل دیکر میں نے غلط بات کی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ آمروں کے ہاتھوں بیعت ہوتی رہی، خود تو پی سی او کے تحت حلف لیتے رہیں اور ہم سے توقع کریں کہ ان فیصلوں کی تعظیم کریں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں چور، ڈاکو اور ڈرگ ڈیلر کہا گیا، عوام کے منتخب کئے نمائندوں کو آپ نے نکال دیا، سیاستدان آسان ہدف ہیں لیکن آمروں کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی سیاسی جماعت کو سینٹ انتخابات سے باہر کردیا گیا تاہم مسلم لیگ (ن) کے پاس شاندار کارکردگی اور بہت طاقتور بیانیہ ہے، انشاء اللہ فتح ہماری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ 70 برسوں میں کسی وزیراعظم نے مدت پوری نہیں کی، ہمیں جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا، پہلے آمریت کے دور میں ایسے سلوک ہوتے تھے اور اب ملک میں آمریت نہیں لیکن پھر بھی اْس دور جیسے فیصلے ہورہے ہیں۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کچھ اور چاہتے ہیں لیکن کچھ قوتیں اس ملک کو کس طرف لے جانا چاہتی ہیں، سیاسی قائدین اور سیاسی جماعتوں سے جو کچھ ہوتا آیا وہ قوم کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججز کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتا ہوں کیونکہ ملک کے آئین کو چھوڑ آمروں سے حلف لینا بہت بڑا جرم ہے،اب ہمیں ایسے راستوں کو بند کرنا ہوگا جس سے 20 کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی جاتی ہو، تین بار وزیراعظم منتخب ہوا لیکن مدت پوری نہیں کرنے دی گئی اور بطور صدر مسلم لیگ (ن) مجھے آج یہ منصب بھی چھوڑنا پڑ رہا ہے’۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب خلق خدا ہی نہیں مانے گی تو یہ فیصلے کہاں جائیں گے، آمریت کے دور میں بھی ایسا کبھی نہیں ہوا، جو کام 1947 میں شروع ہوا آج تک ختم نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں شہبازشریف ہی پارٹی کو بہترین طریقے سے چلانے میں معاون ثابت ہوں گے،اس لئے شہبازشریف کا نام قائم مقام صدر کے لئے منتخب کرتا ہوں،جس پر سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد،خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال بھی نوازشریف کی تائید میں کھڑے ہوگئے اور ہاتھ بلندکردئیے،جس کے فوری بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی نوازشریف کے بیان کے حق میں کھڑے ہوگئے،جس پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے اعلان کیا کہ آج کے بعد شہبازشریف مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر ہوں گے۔ بعد ازا ں نواز شریف کو تاحیات پارٹی قائد منتخب کیا گیا ،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف نے تاحیات قائد کے لیے نواز شریف کا نام تجویز کیا،اس موقع پر شہبارشریف نے بھی مسلم لیگ(ن) کے قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ چند ایسے فیصلے جو مسلم لیگ(ن) کے خلاف آئے ہوئے ہیں ان پر اپنے آواز بلند کرتا رہوں گے،نوازشریف نے مسلم لیگ(ن) کو مقبول ترین جماعت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور ن لیگ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے بھی نوازشریف کا خون پسینہ دیکھا ہے،نوازشریف جیسے مدبر کی سرپرستی ملنا خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں انصاف اور عدل کی بالادستی کے لئے ہر سطح پر جدوجہد کرنی ہوگی کیونکہ پاکستان سیاسی زندگی کے سنگین لمحات سے گزر رہا ہے۔

Related posts