سینٹ الیکشن: پیپلز پارٹی نے سیاسی منظر نامہ ہی بدل ڈالا


تجزیہ :حامد یٰسین

سینٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی نے سیاسی منظر نامہ ہی بدل ڈالا ہے۔کرشنا کماری‘ انور لعل دین‘ جیسے چہرے سینٹ میں پہنچا کر پی پی پی نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ ہی محکوم طبقات کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ سینٹ کیلئے پی پی پی سے بہتر چہرے کسی نے نہیں دئیے۔ مسلم لیگ ن کے پنجاب سے ٹیکنوکریٹ منتخب ہونے والے دونوں سینیٹرز ایسے ہیں کہ جمہوریت سے ہی اعتبار اٹھنے لگتا ہے۔ اسحاق ڈار اشتہاری تھے اور عدالت کو مطلوب تھے ۔ مگر اس کے باوجود الیکشن میں حصہ لینے کے اہل ٹھہرے اور کامیاب بھی ہوگئے۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت بھی عدالت نے ہی دی ہے۔ ریٹرننگ افسر نے تو ان کے کاغذات مسترد کردئیے تھے۔پی ایم ایل این کے دوسرے ٹیکنوکریٹ جیتنے والے حافظ عبدالکریم بوگس تعلیمی اسناد دینے کے جرم میں واضح طور پر ملوث ہیں۔ ان کا ڈی جی خان میں تعلیمی ادارہ بوگس ڈگریاں دینے اور بغیر الحاق چلتا رہا مسلم لیگ ن کے گڈ گورننس کے نعرے لگانے والے وزیراعلیٰ پنجاب نے ان کے بوگس ڈگریاں بانٹنے کے جرم کا علم ہونے کو باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی الٹا یونیورسٹیوں کو حکم دیا جاتا رہا کہ حافظ عبدالکریم کے ادارے کے معاملات بغیر استحقاق ہی ٹھیک کردئیے جائیں۔اس حوالے سے دیکھا جائے تو ٹریک ریکارڈ پی ٹی آئی کا بھی ٹھیک نہیں ہے۔اعظم سواتی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ہی سینٹ میں پہنچے ہیں۔اس حوالے سے پی پی پی نے مسلم لیگ ن ‘ پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کو چاروں شانے چت کیا ہے اور کرشنا کماری اور انور لعل دین جیسے چہرے سینٹ میں بھجوا کر غریب کی بھی نمائندگی سینٹ میں کردی ہے۔

قومی اسمبلی میں حکمران پارٹی مسلم لیگ ن کی برتری بہت زیادہ تھی جس کی بناء پر وہ اسلام آباد کی دونوں نشستیں واضح فرق سے جیت گئی مگر فاٹا کے چار سینیٹرز کے چناؤ میں حکمران لیگ کو ایک بھی سیٹ نہ مل سکی حالانکہ فاٹا کے ارکان کو اپنے حق میں کرنا حکومتی جماعت کیلئے زیادہ آسان تھا۔ مگر یہ واضح نظر آیا کہ فاٹا کے ارکان اسمبلی کا واضح جھکاؤ پی پی پی کی طرف ہے۔ فاٹا سے نو منتخب سینیٹرز کاآزاد جیتنے کے باوجود جھکاؤ پیپلز پارٹی کی طرف ہے۔

پنجاب میں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کی حکمت عملی کو واضح شکست ہوئی ہے ۔نتائج نے ثابت کیا ہے کہ حکمران لیگ کا اپنی جماعت پرمکمل کنٹرول نہیں رہا۔ مسلم لیگ ن کے 17ارکان پنجاب اسمبلی نے اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔چوہدری سرور کی کامیابی بھی حکمران لیگ کیلئے طمانچہ ہے۔چوہدری سرور کے مسلم لیگ ن کے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے لیگی ایم پی ایز کیساتھ ڈیل کی خبریں کافی دن پہلے سے سامنے آرہی تھیں ۔ ان فیصل آبادی لیگی ایم پی ایز کیساتھ ڈیل کروانے میں مسلم لیگ ن کے اپنے ہی ایک ڈپٹی میئر نے اہم کردار ادا کیا۔پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 31اور جماعت اسلامی کا ایک ممبر ہے۔ پانچ آزاد ارکان کو بھی پی ٹی آئی کی طرف جان لیا جائے تو پھر بھی چوہدری سرور کا 44ووٹ لے جانا حالات بالکل ٹھیک ہونے کی نفی کررہا ہے۔ یہی نہیں پی پی پی کے امیدوار شہزاد علی خاں نے بھی 26ووٹ لئے ہیں جبکہ پی پی پی کے اسمبلی میں صرف آٹھ ووٹ ہیں۔ مسلم لیگ ن اگرچہ پنجاب میں گیارہ سیٹیں جیت گئی ہے مگر نمبر گیم اور اپوزیشن کے بکھرے ہونے کے باعث ن لیگ کو تمام سیٹیں جیتنی چاہئے تھیں۔ن لیگ کے 17ارکان کا ادھر ادھر ہو جا نا پارٹی کے اندر پکنے والی کھچڑی کا مظہر ہے۔ میاں شہباز شریف نے ہر امیدوار کے لئے 48‘ 48ارکان مختص کئے تھے مگر کسی ایک کو بھی 48ووٹ نہیں ملے۔ فیصل آباد کے چار ارکان اسمبلی کی چوہدری سرور کیساتھ ڈیل اور چند دیگر ارکان کے بھی اپوزیشن کیساتھ رابطوں کی خبر بہت پہلے سامنے آچکی تھی۔مگر اس کے باوجود مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اور سینٹ الیکشن کے کوارڈی نیٹر رانا ثناء اللہ اپنے ارکان اسمبلی کو اپنے امیدواروں تک محدود نہیں کر سکے۔

سندھ اسمبلی میں اپ سیٹ ہوا ہے مگر یہ اپ سیٹ حکومتی پارٹی کے خلاف جانے کی بجائے اس کے حق میں گیا ہے۔ اپوزیشن کے بکھرے ہونے اور متحدہ کے منتشر ہونے کا پیپلزپارٹی نے بھرپور فائدہ اٹھایانمبر گیم میں پی پی پی کی سات سیٹیں بنتی تھیں مگر وہ دس جیت گئی۔ یہ اس کی حکمت عملی اور حالات سے فائدہ اٹھانے کا ثبوت ہے۔ متحدہ سمیت سب نے شور مچا رکھا ہے کہ ان کے ارکان اسمبلی خریدے جا رہے ہیں مگر سندھ سے پی پی پی کے جیتنے والے ارکان اسمبلی کے نام اور چہرے ایسے نہیں ہیں کہ ان کے بارے میں کہا جا سکے کہ وہ اس خریدوفروخت میں ملوث ہوں گے۔ کرشنا کماری‘ انور لعل دین‘ رضا ربانی‘ مولا بخژ چانڈیو‘ امام دین شوقین‘ قراۃ العین مری ۔ ان میں سے کوئی ایک نام بھی ایسا نہیں ہے جو خود اس خریدو فروخت میں ملوث ہو سکتا ہو۔

خیبر اسمبلی میں بھی حکمران جماعت پی ٹی آئی نے ایک سیٹ کم جیتی ہے۔ پی پی پی کا خواتین کیلئے مخصوص سیٹ جیت جانا پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے لئے سوچنے کی بات ہے۔تاہم مسلم لیگ ن نے دوسیٹیں جیت کر اپنی موجودگی کا احساس دلا دیا ہے۔ بلوچستان میں مسلم لیگ ن سب سے زیادہ خسارے میں رہی ہے۔اور فائدہ پی پی پی اٹھا گئی ہے۔ بلوچستان سے منتخب ارکان سینٹ کی اصل پارٹی پوزیشن واضح کریں گے۔ ان کے اعلان سے ہی سینٹ میں پارٹی پوزیشن سامنے آئی گی۔حالات پی پی پی کیلئے بہت زیادہ سازگار ہیں۔سینٹ میں پی ٹی آئی کے 12ووٹ ہوگئے ہیں۔ اس کا فیصلہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔ پی ٹی آئی نے سولو فلائیٹ کی اپنی روائت برقرار رکھی تو سینٹ چیئرمین کا اصل الیکشن صرف 92ارکان میں سے رہ جائے گا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اپنا وزن جس بھی پارٹی (پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن)کے پلڑے میں ڈال دیا وہ آسانی کیساتھ چیئرمین کی جنگ جیت جائے گی۔چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں اصل امتحان اب پی ٹی آئی کا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ مسلم لیگ ن کے خلاف صرف نعرے بازی ہی کرتے رہیں گے یا عملی طور پر مسلم لیگ ن کو ہرانے کیلئے اپوزیشن کا ساتھ دیں گے۔ پی ٹی آئی کا مسلم لیگ ن کے مخالف امیدوار کا ساتھ نہ دینا بھی عملی طور مسلم لیگ ن کو فائدہ پہنچانا ہی ہوگا۔ وقت اب زیادہ نہیں ہے۔ چند دنوں میں پی ٹی آئی کی گیم بھی سامنے آجائے گی۔

Related posts