پاکستان میں 2 کروڑ افراد گردوں کے مرض میں مبتلا:میئر کراچی


کراچی (نیوزلائن)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں50 کروڑ اور پاکستان میں 2 کروڑ افراد گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں جبکہ ان میں بالترتیب 8 فیصد اور 15 سے 20 فیصد سالانہ اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں ہر 10 لاکھ کی آبادی میں تقریباً 150 افراد کے ڈائیلسز کئے جاتے ہیں، شہر میں گردوں کے امراض کے علاج کے حوالے سے مزید اسپتالوں کی ضرورت ہے ،شہر میں دل کے اسپتالوں کی طرح گردوں کے اسپتالوں میں بھی اضافہ کیا جانا چاہئے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورلڈ کڈنی ڈے کے موقع پر ہفتہ کی دوپہرنذیر حسین میموریل کڈنی سینٹر ST-5‘ بلاک 6‘ فیڈریل بی ایریا میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب میں ضلع وسطی کے چیئرمین ریحان ہاشمی، وائس چیئرمین شاکر علی، چیئر پرسن معالجات کمیٹی ناہید فاطمہ، یوسی چیئرمین حسن نقوی، چیئرمین فنانس کمیٹی ندیم ہاشمی، سینئر ڈائریکٹر کو آرڈینیشن مسعود عالم، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر بیربل ، کڈنی سینٹر کے انچارج ڈاکٹر خرم دانیال، ڈاکٹر آصفہ، کے ایم ڈی سی کی پرنسپل ڈاکٹر نرگس انجم ، مختلف محکموں کے سربراہان، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور دیگر بھی موجود تھے، میئر کراچی وسیم اختر نے اسپتال کے وارڈ میں موجود ڈائیلسز کے مریضوں سے ملاقات کی ان کی خیریت دریافت کی اور انہیں پھول اور تحائف پیش کئے، قبل ازیں میئر کراچی وسیم اختر نے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور اسپتال کے بارے میں تفصیلات دریافت کیں، میئر کراچی وسیم اختر کو بتایا گیا کہ نذیر حسین میموریل کڈنی سینٹر کی عمارت 2008ء میں تعمیر کی گئی تھی جسے 2012 میں کے ایم سی اور کے ایم ڈی سی کے حوالے کیا گیا تھا بعدازاں نومبر 2017ء میں اس عمارت کو فعال کیا گیا اور یہاں تقریباً 15 ڈائیلسز مشینیں لائی گئی ہیں جن سے تقریباً روزانہ 30 مریض استفادہ کرتے ہیں میئر کراچی وسیم اختر کو بتایا گیا کہ کڈنی سینٹر میں ویسکولر سرجری (AVF) بھی بنایا جارہا ہے لیبارٹری کو بھی جلد فعال کردیا جائے گا، میئر کراچی کو بتایا گیا کہ اسٹاف کی کمی کے باعث سینٹر کو مشکلات کا سامنا ہے، اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے مزید کہا کہ نذیر حسین میموریل کڈنی سینٹر کو چلانے والی ڈاکٹروں کی ٹیم مبارکباد کی حقدار ہے، وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود اسپتال میں مریضوں کو ڈائیلسز کی سہولیات فراہم کرکے ایک مثال قائم کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی نہ پہلے لاوارث تھا، نہ ہے اور نہ ہونے دیں گے ،مشکلات ضرور ہیں مگر بلدیاتی نمائندے ان کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔

Related posts