نواز شریف کا بیانیہ اور شہبازکو پرو اسٹیبلشمنٹ سیاست کی اجازت


اسلام آباد(احمد یٰسین)مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ روابط بڑھانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس کیلئے انہیں میاں نواز شریف کی بھی حمائت حاصل ہے اور دونوں بھائی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ہاتھ ملانے کیلئے عوام کے سامنے پیش کئے گئے بیانئے کو بھی نظر انداز کرنے کیلئے تیار ہیں۔ مگر اسٹیبلشمنٹ اب ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہو رہی۔ نیوزلائن کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کیساتھ چلنے کی کوششوں میں ہیں۔ میاں شہباز شریف کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ کو مسلسل پیغام بھجوائے جارہے ہیں مگر انہیں کامیابی نہیں مل رہی۔ اسٹیبلشمنٹ ان کی کوششوں کے جواب میں مثبت اشارے نہیں دے رہی۔ن لیگی ذائع کے مطابق میاں شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کیساتھ چلنے کی کوششوں میں میاں نواز شریف کی حمائت بھی حاصل ہے۔ اس کیلئے اندروں خانہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف کے عوام کیساتھ پیش کئے گئے بیانیہ کو بھی نظر انداز کردیا جائے گا اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے قبول کئے جانے پر مسلم لیگ ن دوبارہ پرو اسٹیبلشمنٹ کردار ادا کرے گی۔ اس کے بدلے شریف برادران عدالتی امورمیں ‘ نیب تحقیقات میں اور دیگر معاملات میں ریلیف کے خواہاں ہیں۔ذرائع کے مطابق سینٹ الیکشن میں راجہ ظفر الحق کو امیدوار بھی دونوں بھائیوں نے باہمی مشاورت سے بنایا تھا اور اس کے ذریعے بھی اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دیا گیا تھا ۔ رضا ربانی کا نام انٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کا حصہ تھا مگر اس کے ذریعے پیپلز پارٹی کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی کوشش کی گئی تھی مگر جب اپنے پر بات آئی تو شریف برادران نے پرویز رشید جیسے انٹی اسٹیبلشمنٹ رہنما کو امیدوار بنانے کی بجائے پرو اسٹیبلشمنٹ راجہ ظفر الحق کو امیدوار بنا دیا۔ ن لیگ انٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کیلئے بھی دوسروں کے کندھوں کی متلاشی تھی جو اسے نہ مل سکے۔ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مثبت اشارے نہ ملنے تک میاں نواز شریف نے عوام کے سامنے پیش کئے گئے بیانئے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم میاں شہباز شریف کو پرواسٹیبلشمنٹ سیاست کے حوالے سے فری ہینڈ بھی دیدیا ہے۔

Related posts