روشنیوں کا شہر پی ایس ایل فائنل کی کرنوں سے منور


xکراچی(نیوزلائن)پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی پی ایس ایل کے فائنل کی شکل میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوگئی۔ فائنل میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو ہرا کر ٹرافی اپنے نام کرلی۔ کراچی کے شہریوں نے نو سال بعد ہونے والے کرکٹ میچ کو خوب انجوائے کیا اور شہر کا شہر سٹیڈیم امنڈ آیا۔ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پشاور زلمی کے بلے باز اسلام آباد یونائیٹڈ کی شاندار بولنگ کے باعث بڑا ٹوٹل کرنے میں ناکام رہے اور مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹ کے نقصان پر 148 رنز بناسکے جس کے جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے مطلوبہ ہدف 7 وکٹ کے نقصان پر 17ویں اوور میں حاصل کیا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے لیوک رونکی اور صاحبزادہ فرحان نے اننگز کا آغاز کیا اور پشاور زلمی کے بلے بازوں کے برعکس گراؤنڈ کے چاروں اطراف میں کھل کر اسٹروکس کھیلے۔ لیوک رونکی نے ایک بار پھر اپنے پچھلے میچوں کی کارکردگی کو جاری رکھتے ہوئے نہ صرف ٹیم کو جارحانہ آغاز فراہم کیا بلکہ صاحبزادہ فرحان کے ساتھ ملکر پاور پلے کے 6 اوورز میں 66 رنز کی شراکت قائم کی۔ اس بار صاحبزادہ فرحان نے بھی لیوک رونکی کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے دلکش اسٹروکس کھیلے۔ لیوک رونکی نے پی ایس ایل میں ایک اور برق رفتار نصف سنچری اسکور کرتے ہوئے پشاور زلمی کے اوپننگ بلے باز کامران اکمل سے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز بھی چھین لیا، اور اب وہ پاکستان سپر لیگ تھری کے ٹاپ اسکورر ہوگئے ہیں۔ پشاور زلمی کو پہلی کامیابی 96 رنز کے مجموعی اسکور پر ملی جب لیوک رونکی 26 گیندوں پر 52 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے، ان کی اننگز میں 5 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے۔ پشاور زلمی کو دوسری کامیابی کے لیے بھی زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا، تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے آنے والے چیڈوک والٹن صرف 2 گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے، وہ عمید آصف کا شکار بنے۔ کپتان جے پی ڈومینی خود بیٹنگ کے لیے آئے اور ابتدائی چند گیندوں پر سنگلز لیے لیکن کرس جورڈن نے انہیں ایک شاندار ڈیلیوری پر کیچ اینڈ بولڈ کرکے پویلین واپس بھیج دیا، وہ صرف 2 رنز ہی بناسکے۔ اوپننگ بلے باز صاحبزادہ فرحان بھی 33 گیندوں پر 44 رنز کی اننگز کھیل کرآؤٹ ہوگئے، ان کی اننگز میں 1 چھکا اور 5 چوکے شامل تھے جب کہ وہاب ریاض نے انہیں پویلین بھیجا۔ حسن علی نے اپنے ابتدائی اسپیل میں مہنگے ترین بولر ثابت ہوئے اور صرف 2 اوورز میں 31 رنز دیے لیکن اپنے تیسرے اوور میں صرف ایک رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے اوور کی پہلی ہی گیند پر سمت پٹیل کو پویلین بھیجا وہ 10 رنز کھیل کر آؤٹ ہوئے جب کہ آخری گیند پر ایک رنز بنانے والے شاداب خان کو آؤٹ کرکے پشاور کو چھٹی کامیابی دلوائی۔ آخری لمحات میں کامران اکمل نے عمید آصف کی گیند پر آصف علی کا مشکل کیچ چھوڑا جو پشاور زلمی کے لیے بہت زیادہ بھاری ثابت ہوا کیوں کہ اگلے ہی اوور میں آصف علی نے حسن علی کو لگاتار 3 بلند وبانگ چھکے رسید کرکے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروایا۔ اس سے قبل پشاور زلمی کے کپتان ڈیرین سیمی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ پشاور زلمی کی جانب سے کامران اکمل اور اندرے فلیچر نے اننگز کا آغاز کیا لیکن وہ ابتدائی 2 اوور تک بہت ہی محتاط رہے جس کے بعد فلچر نے تیسرے اوور میں سمت پٹیل کو لگاتار 2 چوکے رسید کیے۔ تیسرے اوور میں پشاور زلمی کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب ان کے ان فارم بلے باز، پچھلے میچ کے ہیرو اور ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ اسکور بنانے والے بلے باز کامران اکمل 9 گیندوں پر صرف ایک رنز بناکر سمت پٹیل کا شکار بنے۔ محمد حفیظ تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے اور ایک شاندار چھکا رسید کرکے اپنے خطرناک عزائم کا اظہار کیا مگر سمت پٹیل نے ان کی ایک نہ چلنے دی اور 8 رنز پر ہی پویلین واپس بھیج دیا۔ دو اہم ترین بلے بازوں کے آؤٹ ہوجانے کے بعد اندرے فلیچر نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ اچھے اسٹروکس کھیلے لیکن وہ شاداب خان کی ایک گیند کو بالکل نہ سمجھ پائے اور اس پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ وہ 21 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے بولرز کی نپی تلی بولنگ کے باوجود کرس جورڈن اور لیام ڈاسن نے چوتھی وکٹ کے لیے 52 رنز کی قیمتی شراکت داری بنانے میں کامیاب رہے تاہم کرس جورڈن حسین طلعت کو ایک چھکا رسید کرنے کے بعد اگلی گیند پر باؤنڈری پر کپتان ڈومینی کو کیچ دے بیٹھے۔ وہ 26 گیندوں پر 36 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ جورڈن کے پویلین لوٹنے کے بعد سعد نسیم بیٹنگ کے لیے آئے لیکن وہ صرف 3 گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اور 2 رنز بنانے کے بعد حسین طلعت کی گیند کیچ اینڈ بولڈ ہوگئے۔ کپتان ڈیرن سیمی نے اپنے مزاج کے خلاف دفاعی انداز اپنایا جو انہیں بہت مہنگا پڑا اور انہیں 6 گیندیں کھیلنے کے بعد ہی پویلین واپس جانا پڑا، وہ 6 رنز بناکر شاداب خان کا شکار بنے جب کہ شاداب نے اگلی ہی گیند پر عمید آصف کو بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین واپس بھیج دیا۔ لیام ڈاسن نے بھرپور کوشش کی کہ وہ وکٹ پر موجود رہ کر اپنی ٹیم کو بڑا ٹوٹل دینے میں کامیاب رہے لیکن وہ بھی 33 رنز پر ہمت ہار بیٹھے، انہیں محمد سمیع نے بولڈ کیا جب کہ حسن علی بھی 5 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ وہاب ریاض میں آخری لمحات میں چند شاندار اسٹروکس کھیلے جس کی بدولت پشاور زلمی اسکور بورڈ پر ایک مناسب ٹوٹل سجانے میں کامیاب رہے، وہاب ریاض 14 گیندوں پر 28 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے شاداب خان نے 3، سمیت پٹیل، حسین طلعت نے 2،2 جب کہ فہیم اشرف اور محمد سمیع نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ میچ سے قبل نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان سپر لیگ کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی جس میں گلوکارہ آئمہ بیگ، فرحان سعید، شہزاد رائے، اسٹرنگز بینڈ اور علی ظفر نے اپنی آواز کا جادو جگایا اور اپنی پرفارمنس سے حاضرین کے محظوظ کیا، تقریب کے دوران پشاور زلمی کے کپتان ڈیرین سیمی اور حسن علی نے اسٹیج پر رقص بھی کیا۔ تقریب کے دوران دونوں ٹیموں کے کپتان بھی اسٹیج پر آئے، اسلام آباد یونائیٹڈ کے موجودہ کپتان جے پی ڈومینی نے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بہت پیار ملا اور وہ فائنل کے لیے بہت پر جوش ہیں۔ پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی نے کہا پہلے پشتو زبان میں ‘پخیرراغلے‘ کہا یعنی ’خوش آمدید اور پھر اردو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ،کیسے ہو کراچی، ہم یہاں جیتنے کے لیے آئے ہیں۔ سیمی نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔ اس سے قبل تقریب کے دوران بات کرتے ہوئے پی سی بی کے چیرمین نجم سیٹھی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور سیکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخی دن ہے، کراچی میں 9 سال بعد کرکٹ واپس آرہی ہے جس کے لیے کراچی والو کو مبارک ہو جب کہ پی ایس ایل کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پاکستانیوں کا ٹورنامنٹ ہے۔ لاہور کے بعد شہر قائد کو بھی دلہن کی طرح سجادیا گیا، اسٹیڈیم میں 9 سال بعد کرکٹ کے عالمی ستارے جگمگائے۔ فائنل میں آمنے سامنے آنے والی اسلام آباد یونائیٹڈ اورپشاورزلمی نے نیشنل اسٹیڈیم میں پنجہ آزمائی کے لئے بھر پور پریکٹس کی۔ اسٹیڈیم کی طرف آنے والی تمام شاہراہوں کو دلہن کی طرح سجایا گیا جب کہ بڑے ٹاکرے کے لئے سیکیورٹی کی بھی بڑی تیاریاں کی گئی۔ ملک کے معاشی حب میں کرکٹ کا میلہ سجا، تو کاروبارمیں بھی تیزی آگئی، ملک اور بیرون ملک سے شائقین کرکٹ کراچی آئے، ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسز کے کرایوں میں 20 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا جب کہ فائنلسٹ ٹیموں کی شرٹس ہاتھوں ہاتھ بکیں۔

Related posts