احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں: جسٹس جاوید اقبال


اسلام آباد (نیوزلائن) چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ’ احتساب سب کیلئے‘کی پالیسی پر پختہ یقین رکھتے ہیں، بدعنوانی ایک ناسور ہے ،خاتمہ میں ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا راز مضمر ہے، تمام انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز پر میرٹ، شفافیت اور قانون کے مطابق عمل جبکہ کرپشن سے متعلق شکایت کنندگان کی شکایات کو نیب قوانین کے مطابق نمٹایا جارہا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے یہ بات جمعرات کو کھلی کچہری میں عوامی شکایات کی سماعت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ چیئرمین نیب نے لوگوں کی انفرادی شکایات تحمل سے سنیں اور ان کی شکایات قانون کے مطابق نمٹانے کیلئے موقع پر احکامات جاری کئے۔ نہوں نے کہا کہ آج ملک تقریباً 84 ارب ڈالر کا مقروض ہے مگر اس قرض کے پیسے کا مصرف کہیں نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ صرف نیب نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود کرپشن سے انکار کرے بلکہ اپنے اردگرد رہنے والے افراد کو بھی اس کینسر سے بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی فرانزک سائنس لیبارٹری بنائی ہے جس سے نیب کی انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کے معیار میں بہتری آئی ہے۔ نیب کے افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو نے قوم کے لوٹے ہوئے تقریباََ 289 ارب روپے قومی خزانہ میں جمع کروائے جس سے متاثرین اور اداروں کو ان کی لوٹی ہوئی رقم واپس ملی۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے کام کو نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی اچھی شہرت کے حامل اداروں میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل برلن جرمنی، ورلڈ اکنامک فورم اور پلڈاٹ نے اپنی رپورٹس میں سراہا ہے جو پاکستان کیلئے بھی نیب کی کاوشوں کی بدولت ایک اعزاز کی بات ہے۔شکایت کنندگان نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی قیادت میں قومی احتساب بیورو پر پوری قوم کو اعتماد ہے، آپ کا بے داغ ماضی اور ’ ’احتساب سب کیلئے‘‘ کی پالیسی ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ میں اہم سنگ میل ثابت ہو رہی ہے۔

Related posts