این اے 106:پذیرائی نہ ملنے پر رانا ثناء اللہ بھاگنے کی کوشش میں


فیصل آباد(نیوزلائن)مسلم لیگ ن کے رہنما اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں نے نئی حلقہ بندی میں این اے 106قرار دئیے گئے حلقہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور اس حلقے میں اپنی انتخابی مہم بھی شروع کر رکھی ہے ۔یہ حلقہ ماضی میں این اے 81کہلاتا تھا اور یہاں سے ڈاکٹر نثار احمد رکن قومی اسمبلی تھے۔ ڈاکٹر نثار احمد منتخب تو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر تھے مگر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔رانا ثناء اللہ کئی سالوں سے اس حلقے سے الیکشن لڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں مگر ابھی تک انہیں اس حلقے میں پذیرائی نہیں مل سکی۔یہ حلقہ جٹ اور راجپوت برادری کا گردانا جاتا ہے پی ٹی آئی کی طرف سے ڈاکٹر نثار احمد اور پیپلز پارٹی کی طرف سے چوہدری سعید اقبال متوقع امیدوار ہیں۔ رانا ثناء اللہ خاں کافی عرصے سے یہاں سے الیکشن لڑنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ انہوں نے اس حلقے میں اہم افراد سے رابطے بھی شروع کررکھے ہیں۔ جبکہ اشتہاری مہم بھی شروع کی ہوئی ہے۔ رانا ثناء اللہ کی انتخابی مہم اور رابطہ مہم کے جواب میں ڈاکٹر نثار اور چوہدری سعید اقبال بھی سرگرم ہیں۔صوبائی وزیر قانون‘ حکومتی پارٹی کا اہم فرد ہونے کے باوجود رانا ثناء اللہ خاں کو ابھی تک اس حلقے میں پذیرائی نہیں مل سکی۔حتیٰ کہ علاقے کی راجپوت برادری نے بھی رانا ثناء اللہ خاں کو قبول نہیں کیا اور ان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہے۔ مسلسل پذیرائی نہ ملنے کی وجہ سے وہ کافی پریشان اور مایوس نظر آتے ہیں اور حلقہ تبدیل کرکے این اے 107میں جانے کا سوچ رہے ہیں۔ این اے 107ماضی میں این اے 83کہلاتا تھا اور یہاں سے مسلم لیگ ن کے میاں عبدالمنان رکن قومی اسمبلی ہیں۔ میاں منان آمدہ الیکشن میں بھی اس حلقے سے خود یا اپنے بیٹے عرفان منان کو امیدوار بنوانا چاہتے ہیں مگر اب سیاسی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ رانا ثناء اللہ این اے 106سے مایوس ہو کر این اے 107میں آنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس صورتحال نے میاں منان کو شدید ناراض کردیا ہے اور وہ رانا ثناء اللہ خاں کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

Related posts