الیکشن جیتنے والوں کی گردن پر بوٹ‘ سرپر ہتھوڑا ہوگا


اسلام آباد(نیوزلائن)دنیا کا معتبر جریدہ ’اکانومسٹ‘ پاکستان کی صورت حال پر لکھتا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار پاکستان کے کوئی پہلے’سیلیبرٹی جج‘ نہیں ۔بیشتر وکلا عدلیہ کے دوبارہ شہ سرخیوں میں آنے پر صدمے سے دوچار ہیں،رواں برس کے آغاز سے تقریباً 30 ازخود نوٹس (سو موٹو) لیے جاچکے ہیں۔ عدلیہ 30 لاکھ مقدمات کے بوجھ تلے دبی کراہ رہی ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کے اقدامات نے قومی سیاست کو خراب کردیا ہے،چیف جسٹس کے اسپتالوں کے دور ے مسلم لیگ نواز کےلئے نقصان دہ ہیں،ان کی شکایات کا مرکز پنجاب ہے،چیف جسٹس کے دیگر فیصلے بھی مسلم لیگ نواز کی پالیسیوں سے متصادم ہیں، بعض وکلا کے مطابق چیف جسٹس حزب اختلاف کاکردارادا کررہے ہیں، اپوزیشن سیاستدانوں کو بھی سپریم کورٹ کے زعم یا انتہائی خود اعتمادی سے محتاط رہنا چاہیے۔جریدہ لکھتا ہے کہ کسی بھی طور سےدونوں اداروں یعنی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے ایک دوسرے کی برملا حمایت کی ہے۔ چوہدری افتخار کے برعکس، جسٹس ثاقب نثار نے اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ موضوعات سے گریز کیا،آرمی چیف نے اس ماہ خبردار کیا کہ مسلح افواج پارلیمان کے ساتھ کسی بھی تنازع میں عدلیہ کے پیچھے کھڑی ہوں گی۔ ایک وکیل کا کہنا ہے سیاست دان ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی جگہ عدالتوں کے لئے چھوڑرہے ہیں،اپنے تنازعات کے فیصلے ووٹرز پر چھوڑنے کی بجائے پارٹیاں اب باقاعدگی سے اپنے مخالفین کو نااہل کرانے کےلئے آئینی درخواستیںدائر کرتے ہیں۔سیاست میں فوج کے حامیوں کی بھی کمی نہیں ،جمہوریت پر دو طرفہ حملے میں شدت آنے کا خدشہ ہے۔ کرپشن مقدمے کی سماعت جلد ہی نواز شریف کو سلاخوں کے پیچھے ڈال سکتی ہے، عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ نواز کو ہٹانے کےلئے پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میںاتحاد قائم ہوسکتا ہے۔جریدہ لکھتا ہے کہ جو بھی کامیاب ہوا، ایک چیز یقینا ًواضح ہے کہ اس کی گردن پر بوٹ اور سر پر ہتھوڑا ہو گا۔

Related posts