ہماری انسداد بدعنوانی حکمت عملی کامیاب رہی‘ چیئرمین نیب


اسلام آباد (نیوزلائن)قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے پرعزم ہے، نیب کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے، نیب افسران بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اپنی کوششوں کو دوگنا کریں۔وہ نیب کے علاقائی بیوروز کی ماہانہ کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔ اجلاس کے دوران نیب کے تمام علاقائی بیوروز، پراسیکیوشن، آگاہی و تدارک سمیت نیب ہیڈ کوارٹرز کے تمام شعبوں اور نیب کی موجودہ انتظامیہ کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مستقبل میں خامیوں پر قابو پانے کیلئے حکمت عملی وضع کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کینسر ہے جو ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے، نیب ہر قیمت پر بدعنوانی کے خاتمہ اور بلاامتیاز کارروائی کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 296 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں، ان میں سے نیب افسران نے ایک بھی پائی وصول نہیں کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ وہ بدعنوانی کے مقدمات شفافیت، میرٹ اور قانون کے مطابق نمٹائیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے جامع حکمت عملی وضع کی ہے، تمام مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کیلئے وقت کا تعین کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے طریقہ کار کو بھی بہتر بنایا ہے جس کے باعث کسی بھی فرد کا نیب کی تفتیش پر اثر انداز ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ نیب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے جس میں دو تفتیشی افسران اور ایک لیگل کنسلٹنٹ شامل ہے جو کہ انکوائری اور انوسٹی گیشن کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کیلئے ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن ونگ کو اہداف دیئے گئے ہیں جس کے شاندار نتائج کے باعث احتساب عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی کامیابیوں کی شرح 70 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب قانون پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ آگاہی اور تدارک کو اہمیت دیتا ہے جس کا مقصد لوگوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی قانون پر عملدرآمد، آگاہی و تدارک کی مہم حوصلہ افزاء رہی ہے، انسداد بدعنوانی کی مہم کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، اس لئے نیب اپنی حالیہ پالیسی میں ان نوجوانوں کو اہمیت دیتا ہے تاکہ انہیں ابتدائی عمر میں ہر قسم کی بدعنوانی سے متعلق آگاہی دی جا سکے۔ نیب نے ملک بھر میں مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 55 ہزار کردار سازی کی انجمنیں قائم کی ہیں جس کا مقصد بدعنوانی میں کمی لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء میں کردار سازی کی انجمنوں کی تعداد 60 ہزار سے اوپر تک پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی معیاری مقداری نظام کے تحت ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر کی جائے گی تاکہ نیب کے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے اور مستقبل کے حوالہ سے خامیوں کو دور کرنے کیلئے ادارہ جاتی تعاون اور نگرانی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ شعبوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت شکایات کے اندراج، تصدیق، انکوائری اور انوسٹی گیشن کے علاوہ تمام علاقائی بیوروز کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاسوں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن نظام کو معیاری اور مقداری تجزیہ کیلئے استعمال کیا جائے گا جو کہ خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے خطرہ کی علامت ہے۔ چیئرمین نیب نے نیب کے تمام علاقائی بیوروز کی مخلصانہ کوششوں کی تعریف کی اور افسران کو ہدایت کی کہ وہ بدعنوان سے لوٹی گئی رقم وصول کرنے کیلئے اپنی کوششیں دوگنا کریں کیونکہ نیب ہر قیمت پر پاکستان کو بدعنوانی سے پاک بنانے کیلئے پرعزم ہے۔

Related posts