عمران زرداری بھائی بھائی : نواز شریف تاحیات نااہل نہیں ہوگا


سیالکوٹ (نیوزلائن) مسلم لیگ (ن) کی رہنماء اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے سیالکوٹ میں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو جب جب مائنس کیا گیا وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئے،مخالفین نے30 سال نواز شریف کو روکنے میں لگا دیئے لیکن روک نہیں سکے ، نااہلی کی مد ت تاحیات نہیں صرف اس وقت تک ہے جب تک یہ فیصلے دینے والے کرسیوں پر بیٹھے ہیں،فیصلہ اس لئے آیا کہ انہیں یقین ہوگیا ہے کہ نواز شریف کو انتخابات میں شکست نہیں دے سکتے،یہ 80، 90یا 2000ء کی دہائی نہیں 2018ء ہے اس دفعہ نواز شریف اکیلا نہیں ، نیب عدالت میں نواز شریف کیخلاف گواہی دینے کیلئے آنیوالا ان کے حق میں گواہی دے گیا ہے ، بتایا جائے جے آئی ٹی کے پیچھے بیٹھ کر جھوٹے کیس کی تحقیقات کرنیوالے چالیس نامعلوم افراد کون تھے ، سازشیوں نے غلط اندازہ لگایا کہ نواز شریف ملک چھوڑ کر چلا جائے گا یا ہاتھ جھوڑ دے گا لیکن وہ کھڑا ہوگیا، نواز شریف کی قانون کے سامنے پیش ہونے کی سٹرٹیجی نے سازشوں کے پردے اٹھاکر عوام کے سامنے رکھ دیئے ہیں،عوام جان چکے احتساب کے نام پر کیا ڈرامہ ہو رہا ہے، عمران ،زرداری نے ہاتھ ملا لیا ہے،عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں تیر پر مہر لگائی، نواز شریف آپ کیلئے ، ووٹ کی پرچی کیلئے، ووٹ کی حرمت کیلئے لڑ رہا، مہرے اور سازشی الیکشن میں اپنی ناکامیاں دیکھ کر نواز شریف کیخلاف سازش میں لگے ہوئے ہیں ، یہ سمجھتے ہیں سینیٹ الیکشن کی طرح توڑ جوڑ کر کے 2018ء کے الیکشن میں بھی کوئی کارکردگی دکھا دینگے لیکن یاد رکھیں جب عوام کا سیلاب آ جائے تو بندھ نہیں باندھا جاسکتا، 2018ء کے انتخابات میں نواز شریف کو تاریخ کا سب سے بڑا مینڈیٹ لیتا دیکھ رہی ہوں،اللہ اور عوام کی مدد سے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو بارش کی طرح ووٹ پڑے گا۔ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی نے کہا کہ جب میں یہاں آنے لگی تو ایک فیصلہ سنا کہ نواز شریف کو ایک بار نہیں، دو بار نہیں ، تین بار نہیں، چار بار اسی مقدمے میں نا اہل کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے بتائیں نواز شریف کتنا اہم شخص ہے کہ اس کی ایک بار نا اہلی کافی نہیں تھی یہ اسے بار بار مائنس کر کر کے تھک گئے ہیں لیکن وہ پلس ہو تا جارہاہے۔انہوں نے کہا کہ نااہلی کی مد ت تاحیات نہیں ہے نا اہلی کی مدت صرف اس وقت تک ہے جب تک یہ فیصلے دینے والے ان کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ نواز شریف کی بار بار نا اہلی کا فیصلہ کیوں آیا اور آج تاحیات نا اہلی کا فیصلہ کیوں آیا یہ اس لئے آیا کہ ان کو یقین ہوگیا ہے کہ نواز شریف کو آپ انتخابا ت میں شکست نہیں دے سکتے۔ یہ نا اہلی کا فیصلہ نہیں یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کو پتہ چل گیا ہے کہ نواز شریف جیت رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ نواز شریف کو انا اہل کیا گیا ہو یا سزا سنائی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین نے 30 سال نواز شریف کو روکنے میں لگا دیئے لیکن نہیں روک سکے۔ انہوں نے کہا کہ جس کو اللہ نہ روکے، عوام نہ روکے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے عوام کے ساتھ نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ ’’روک سکو تو روک لو’‘۔مریم نواز نے کہا کہ 2008ء کے انتخابات میں بھی نواز شریف کو نا اہل کر کے انتخابات سے باہر رکھا گیا تھا ، مشرف نے نواز شریف کو دو بار عمر قید کی سزا سنائی تھی، ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں۔ایک ڈکٹیٹر نے کہاتھا کہ نواز شریف تاریخ کا حصہ بن گیا ، نواز شریف کو خاندان سمیت ملک سے باہر نکال دیا گیا ، ملک بدر کردیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج آپ کے منتخب نمائندوں کی نا اہلی ،عمر قید کی سزائیں، پھانسیاں، ہتھکڑیاں ، مقدمے اور سزائیں تاریخ کے کوڑے دانوں میں پڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج وہ سزائیں دینے والے کہاں ہیں بتاؤ ۔آج وہ کہاں ہیں جنہوں نے نواز شریف کو دودفعہ عمر قید کی سزا سنائی تھی ، یعنی 28 سال عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مشرف نے نواز شریف پر کرپشن کا الزام لگایا ، 14 مہینے تک کیس چلا لیکن کرپشن نہیں ملی پھر نواز شریف کو ہائی جیکر بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی دو سال مقدمہ پانامہ کا چل رہا تھا اور سزا کرپشن پر نہیں ، جھوٹ بولنے پر نہیں، اتھارٹی کا غلط استعمال کرنے پر نہیں بلکہ چھوٹے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر دی گئی ہے۔

Related posts