پولیس وردی استعمال کرکے بزنس کمیونٹی کی ریکوری کرنے لگی


فیصل آباد(نیوزلائن)فیصل آباد پولیس نے وردی کا ناجائز استعمال کرنا شروع کررکھا ہے۔ وردی کا استعمال کرکے کاروباری لین دین کی وصولیوں کیلئے طاقتور بزنس کمیونٹی کی ایجنٹ کا کردار ادا کیا جا رہا ہے صرف چھوٹے اہلکار ہی نہیں ’’چھوٹے وڈے ‘‘تھانیدار اور اعلیٰ افسران بھی اس دھندے میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔پولیس اہلکار کاروباری رقوم کی واپسی کیلئے سرگرم ہوتے ہیں اور وصول شدہ رقوم میں سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ تمام کارروائی قانون سے بالاتر ہو کر اور قواعدوضوابط سے ہٹ کر کی جاتی ہے۔ پولیس اہلکار وصولیوں کیلئے غیرقانونی طور پروردی کا استعمال کرتے ہیں اور محکمانہ اختیارات کو غیرقانونی ریکوری کیلئے استعمال میں لایا جاتاہے ۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں کاروباری لین دین کی پولیس کے ذریعے وصولی کے درجنوں کیس سامنے آئے ہیں۔تھانیدار اور پولیس اہلکار بزنس کمیونٹی کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے کاروباری وصولیوں کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور اس کے عوض بزنس کمیونٹی سے اپنا’’ حصہ ‘‘وصول کرتے ہیں۔بعض وصولیوں میں اعلیٰ افسران کا نام بھی استعمال ہوا ہے ۔ جبکہ بزنس کمیونٹی کے پولیس فرینڈلی ایجنٹ بھی پولیس کو استعمال کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق پولیس اہلکاروں کا کاروباری وصولیوں کیلئے کام کرنا وردی کے ناجائز استعمال کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ جبکہ پولیس اہلکاروں کی ایسی کارروائیاں مکمل طور پر غیرقانونی اور وردی کو غنڈہ گردی کیلئے استعمال کرنے کے زمرے میں آتا ہے ۔ذرائع کے مطابق بعض کیسوں میں پولیس اہلکار سود پر دی گئی رقوم کی وصولی کیلئے بھی سرگرم پائے گئے ہیں ۔ پولیس اہلکار وصولی ایجنٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے رقوم کے لین دین کا جائز و ناجائز ہونے کا بھی احساس نہیں کرتے اور فوری طور پر اپنے بزنس مین’’باس‘‘ کی رقم کی وصولی یقینی بنانے کی کوشش میں رہتے ہیں اس کیلئے انہیں محکمہ اور وردی کا جس قدر بھی غیرقانونی استعمال کرنا پڑے وہ کر گزرنے سے گریز نہیں کرتے۔ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں کہ تھانیداروں نے رعب اور دبدبے سے کام نہ نکلنے پر شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا لیا اور تفتیش کے نام غیرقانونی گرفتاریاں کرتے اور لواحقین سے ریکوری کیساتھ اپنا خصوصی نذرانہ برائے منسوخی مقدمہ بھی وصول کیا۔

Related posts